- الإعلانات -

جج پر ‘تشدد’: ایم پی اے کا کزن گرفتار، شوہر کی تلاش جاری

اسلام آباد: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اے ڈی ایس جے) پر حملہ کرنے اور مجرمانہ دھمکی دینے کے الزام میں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے قانون ساز کی شریک حیات اور کزن کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرلیا گیا۔

سیکرٹریٹ پولیس اسٹیشن میں پنجاب اسمبلی کی رکن کے شوہر اور کزن کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 337-اے، 337-ایف، 352 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس نے کزن کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایم پی اے کے شریک حیات کا سراغ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

شکایت کنندہ نے بتایا تھا کہ وہ ابھی کونسٹیٹیوشن ایونیو کے پیٹرول پمپ پر رکے ہی تھے کہ ایک لینڈ کروزر غلط سمت سے آئی اور اس میں سے دو افراد اترے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ انہوں نے جج کے پاس جاکر اسے پیٹنا شروع کردیا اور انہیں گاڑی سے نکالنے کی کوشش کی، جج کے سر، چہرے، آنکھوں، ناک اور ٹانگوں سمیت اس کے جسم پر چوٹیں آئیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اپنے دفاع میں جج نے ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہوگئے تاہم وہ جج کو دوبارہ پیٹنے کے ارادے کے ساتھ پھر واپس آئے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ حملہ آوروں میں سے ایک کی شناخت پنجاب اسمبلی کی ایم پی اے کے شوہر کے طور پر ہوئی ہے۔

رابطہ کرنے پر سینئر پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ ایف آئی آر میں نامزد افراد میں سے ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ایم پی اے کے شوہر ابھی بھی فرار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم ان کا پتہ لگانے اور گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

افسران کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق لینڈ کروزر کے ڈرائیور نے کونسٹیٹیوشن ایونیو پر جج کو اوورٹیک کرنے کے لیے راستہ حاصل کرنے کے لیے ہارن بجایا تھا۔

اگرچہ جج نے انہیں راستہ دے دیا تھا تاہم وہ لینڈ کروزر کے ڈرائیور کے ہارن بجانے کے انداز سے ناراض ہوکر اس کے آگے نکلتے وقت اسے قابل اعتراض اشارہ کیا۔

بعد ازاں جب جج پیٹرول پمپ پر رکے تو لینڈ کروزر بھی وہاں پہنچ گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایم پی اے کے شوہر کے ساتھ لڑائی اور ہوائی فائرنگ کرنے پر اے ڈی ایس جے کو معطل کردیا۔

دوسری جانب اے ڈی ایس جے نے اپنے ساتھی جج فیضان حیدر گیلانی کے سامنے پی پی سی کی مختلف شقوں کے تحت حکمران جماعت کے ایم پی اے کے شوہر چوہدری خرم کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کی۔

اسلام آباد ہائی ککورٹ کی انتظامیہ نے ایک سرکلر کے ذریعے بتایا ہے کہ اے ڈی ایس جے کو معطل کردیا گیا ہے تاہم سرکلر میں ان کی معطلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت سے باہر تصفیہ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ بااثر افراد ہمیشہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے سمجھوتہ کرتے ہیں۔

اے ڈی ایس جے کا نام لیے بغیر جسٹس من اللہ نے کہا کہ ایک شخص نے انتہائی محفوظ ریڈ زون میں ہوائی فائرنگ کی اور ایک اور بااثر شخص سے اس کا جھگڑا ہوا لیکن بعد میں وہ ایک سمجھوتے پر پہنچ گئے۔