- الإعلانات -

طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات میں دو رکاوٹیں ہیں،جنر ل (ر)امجد شعیب

اشرف غنی کونظر آتا ہے کہ طالبان حکومت کا حصہ بن گئے تو اشرف غنی کو تسلیم نہیں کریں گے ، ، طالبان ہمیشہ انہیں امریکہ کا پیٹھو کہتے ہیں
دہشتگردی سے امریکہ بھارت کو روک نہیں رہا، افغانستان میں امن و امان کی وجہ سے ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں
امریکہ بھی چاہتا ہے کہ بھارت امن و امان تباہ کرتا ہے تو کرتا رہے ، وہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن آئے ، وہ پر سکون ہو جائیں
افغانیوں کو سمجھنا چاہئے کہ پاکستان سے تعلق بہت اہم ، لیکن وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی پینگیں بڑھاتے ہیں،سچی بات میں اظہار خیال
اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)جنر ل (ر)امجد شعیب نے کہا کہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات میں دو رکاوٹیں ہیں، افغانیوں کو خود ایک دوسرے کو سمجھنا ہو گا، ایک افغان رائے پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے ، اگر ہو جائے تو یہ اپنی بات سے پھر جاتے ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ موقف پر قائم رہیں گے تو مذاکرات آگے بڑھیں گے ، اشرف غنی کونظر آتا ہے کہ طالبان حکومت کا حصہ بن گئے تو اشرف غنی کو تسلیم نہیں کریں گے ، ، طالبان ہمیشہ انہیں امریکہ کا پیٹھو کہتے ہیں، اگر ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کرتے تو مسائل ہوں گے ، بھارت کا بہت کردار ہے ، پیچھے امریکہ ہے ، سی پیک پر امریکہ ، بھارت راضی نہیں ، دہشتگردی سے امریکہ بھارت کو روک نہیں رہا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنیوز کے پروگروام ” سچی بات” میں گفتگوکرتے ہوئے کیا ،ا نہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و امان کی وجہ سے ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں، بھارت نے افغانستان میں جو سرمایہ کاری کی وہ اسے ضائع ہوتی نظ رآرہی ہے ، بھارت آئے دن الزام تراشیاں کرتا ہے ، ایسے حالات میں مذاکرات ناکام ہوئے تو افغانستان کا امن تباہ ہو جائے گا، امریکہ کو کردار ادا کرنا ہو گا، عبد اللہ عبد اللہ اور اشرف غنی جب دونوں نے اپنے حلف اٹھائے تو امریکہ نے انہیں دھمکی دی تو دوست ہو گئے ، اسی طرح امریکہ بھارت کو دہشتگردی سے روکنا چاہئے تو روک سکتا ہے ، حالات خراب ہونے میں امریکہ کہیں نہ کہیں ہاتھ ہے ، امن خراب ہوگا تو پاکستان کے لئے مسائل پیدا ہوں گے ، امریکہ صحیح دبائو نہیں ڈال رہا ، زلمے خلیل زاد چکرکاٹ رہا ہے ، مگر جہاں بھارت کا کردار ہے تو امریکہ اس پر دبائو ڈالتا نظر نہیں آتا ، اشرف غنی پر بھی امریکہ دبائو ڈالے ، امریکہ بھی چاہتا ہے کہ بھارت امن و امان تباہ کرتا ہے تو کرتا رہے ، وہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن آئے ، وہ پر سکون ہو جائیں ، بھارت نے افغانستان کے آرمی ، پولیس اور بیوروکریسی کو تربیت دی، اس وجہ سے بھارت کا افغان اداروں مین بہت اثر ہے ، افغانیوں کو سمجھنا چاہئے کہ پاکستان سے تعلق بہت اہم ، لیکن وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی پینگیں بڑھاتے ہیں۔