- الإعلانات -

زینب الرٹ بل،اتھارٹی قا ئم نہ ہو سکی، کسی صوبے نے کو ئی کام نہیں کیا،جنوبی پنجاب میں جنسی درندگی ایتہا پر ہے، امین انصاری

جنوبی پنجاب میں 24گھنٹوںمیں 11واقعات رونماہو رہے ہیں، ملک بھر کو دیکھیں تو ہمیں شرمندگی ہوتی ہے ، میں ان ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کے حق میںہوں
حکومت نے کوئی میری مالی امداد نہیں کی ، نہ ہی اسٹیٹس دیا، بیرونی دنیا میں ایسے متاثرہ خاندان کی حکومت مدد کرتی ہے ، میرا اتنا بڑا دکھ تھا، لیکن حکومت نے کچھ نہ دیا
پولیس ملزمان سے مل کر کیس کمزور بناتے ہیں، اور وہ عدالت سے بری ہو جاتے ہیں، یا پولیس متاثرین پر دبائو ڈالتی ہے ، اس سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے
مقدمات کی سماعتوں میں کئی سال لگ جاتے ہیں، مجرم دندناتے پھرتے ہیں، سسٹم کو درست کرنے کی ضرورت ہے،روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں اظہار خیال

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)فوکل پرسن چائلڈ پروٹیکشن اور زینب کے والد امین انصاری نے روزنیوز کے پروگرام ” سچی بات ” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زینب الرٹ بل کے حوالے سے تمام کاوشیں اسد عمر کی تھیں، زینب الرٹ بچوں کے تحفظ کا بل ہے اور اس میں سخت سزا اور دیگر امور پر اسد عمر سے گفتگو کی ، ہماری خواہش تھی کہ دوسری زینب کیساتھ ایسا واقع نہ ہو، زینب تو دنیا سے چلی گئی ، اس کی وجہ منصور پیدا ہوا، زینب الرٹ بل قومی اسمبلی میں نہیں ہوا، آج تک زینب اتھارٹی قائم نہ ہوئی ، نہ ہی کسی صوبے نے اس پر کام کیا، آئے دن بچے بچیوں کیساتھ زیادتی ہو رہی ہے ، جنوبی پنجاب میں 24گھنٹوںمیں 11واقعات رونماہو رہے ہیں، ، ہر روز جنوبی پنجاب کے واقعات ہیں، اور اگر ملک بھر کو دیکھیں تو ہمیں شرمندگی ہوتی ہے ، میں ان ملزمان کیلئے سرعام پھانسی کے حق میںہوں، تاکہ اس جرم میں کمی ہو، سینیٹ میں زینب بل بحث کی نظر ہو گیا، اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی یہ مسئلہ التوا کا شکار ہوگیا، اور قانون نہ بن سکا، میرے پاس گمشدہ بچوں کی فائل ہے ، حکومت میرے لئے کوئی عہدہ اعلان کرے تاکہ میں کام کرسکوں ، مجھے فوکل پرسن بنایا گیا، مگر کام نہیں ہو رہا ، اسد عمر کہتے ہیں کہ میں آپ کے لئے ابھی فون کرتاہوں، میں نے وزیر اعظم سے ملنے کی کوشش کی ہے ، سینیٹر فیصل جاوید سے کہا کہ ملاقات کرادیں ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا شیڈول ٹائٹ ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوئی میری مالی امداد نہیں کی ، نہ ہی اسٹیٹس دیا، بیرونی دنیا میں ایسے متاثرہ خاندان کی حکومت مدد کرتی ہے ، میرا اتنا بڑا دکھ تھا، لیکن حکومت نے کچھ نہ دیا، میرے بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، میں چاہتا تھا کہ بچے پڑھیں آگے بڑھیں لیکن سب رکاوٹ پیدا ہو گئی ، شجاع آباد، لیاقت پور سمیت متعد دعلاقوں میں دردناک واقعات ہوئے ، ان کی کہیں رپورٹ درج بھی نہیں ہے ، اس حوالے سے حکومت کچھ نہیں کر رہی ، اکثر مجرموں کو سزا نہیں ملی ، جب تک جرائم پیشہ افراد کو سزانہیں ملے گی تو جرم کیسے رکے گا، جو بھی مجرم ہو ، اس کو تین ماہ کے اندر اندر سزا ملنی چاہئے ، سزائیں نہ ملنے سے یہ جنسی درندے بن گئے ہیں، ان کو سرعام سزاملنی چاہئے ، اس جرم میں ملوث جو مجرمان ہیں ان کو سزا ملنی چاہئے ، متاثرین عدالتوں کا چکر لگا لگا کر تھک ہار کر گھر بیٹھ جاتے ہیں، دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیس ملزمان سے مل کر کیس کمزور بناتے ہیں، اور وہ عدالت سے بری ہو جاتے ہیں، یا پولیس متاثرین پر دبائو ڈالتی ہے ، قرآن پاک میں اس حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں، اس جرم کی کوئی صلح نہیں ہے ، اس سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ، پارلیمنٹ اس حوالے سے قانو سازی کرے کہ زیادتی کیسز میں صلح نہیں ہونی چاہئے ، موٹروے انہتائی افسوس ناک واقعہ ہے ، اسی دن پارلیمنٹ سر جوڑ کر بیٹھتی اور فیصلہ کرتی کہ سخت سے سخت سزا دی جائے ، جب تک میڈیا پر بات نہ آئے مسئلہ حل نہیںہوتا ، ان جرائم کو روکنے کیلئے اداروں کو انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے ، حیرانگی کی بات ہے کہ ایسے گھنائونے جرم میں ملوث ملزمان قبل از گرفتاری ضمانت کرا لیتے ہیں، ایسے جرائم کا سد باب انہتائی ضروری ہے ، کرپشن اور رشوت بازاری سے جرائم بڑھتے ہیں، جب تک تیز ترین ٹرائل نہیں ہوتے ، سزا نہیں ملتی ، جرم کو روکنا مشکل ہے ، مقدمات کی سماعتوں میں کئی سال لگ جاتے ہیں، مجرم دندناتے پھرتے ہیں، سسٹم کو درست کرنے کی ضرورت ہے ، سال ہا سال گز ر جاتے ہیں، فیصلے ہی نہیں ہوتے ، اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہیںہو رہے ، تمام سیاسی پارٹیوں سے التماس ہے کہ اس حوالے سے کام کریں ، سراج الحق نے زینب بل دوبارہ پیش کرنے کا کہا ہے ، اور بل سے جو سزائے موت نکالی تھی اسے دوبارہ ڈلا گیا ہے ، یہ من حیث القوم سب کی ذمہ داری ہے ، قبلہ ایاز کا بھی موقف ہے کہ ایسے مجرموں کی سزا سر عام نہیں ہونا چاہئے ، انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہونگے ، وزیر قانون کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہئے جن کے بارے میں علم نہ ہو، قرآن پاک کا حکم ہے کہ ایسے مجرموں کو سخت سزا دیں ، تاکہ کسی اور کہ اس جرم کرنے کی جرت نہ ہو سکے ۔