- الإعلانات -

آصف زرداری نے اپنی 3 پُرتعیش گاڑیوں کی ضبطگی چیلنج کردی

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی 3 لگژری (پرتعیش) گاڑیوں کی ضبطگی چیلنج کردی جو ان کے بقول انہوں نے توشہ خانہ سے خریدی تھیں۔

احتساب عدالت نے سابق صدر کی جانب سے دائر درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب) سے 24 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔

واضح رہے کہ 1974 میں قائم ہونے والا توشہ خانہ، کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والا محکمہ ہے اور یہاں دیگر حکومتوں، ریاستوں کے سربراہاں اور غیرملکی شخصیات کی جانب سے جذبہ خیرسگالی کے طور پر حکمرانوں، اراکین پارلیمان، بیوروکریٹس اور حکام کو دیے جانے والے قیمتی تحائف کو رکھا جاتا ہے۔

قواعد کے تحت یہ لازمی ہے کہ توشاخانہ میں ایک خاص قیمت کے تحفے جمع کروائے جائیں تاہم کسی بھی عہدیدار کو یہ تحائف رکھنے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ وہ توشاخانہ جائزہ کمیٹی کے ذریعے لگائے گئے قیمت کے تخمینہ کا کچھ فیصد ادا کرے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے تحفہ شدہ گاڑیوں کی ضبطگی کے نیب کے حکم کو چیلنج کیا ہے جو انہوں نے ایک معمولی قیمت پر خریدی تھیں۔

ساتھ ہی انہوں نے احتساب عدالت کی جانب سے گاڑیوں کی ضبطگی کی توثیق کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا۔

درخواست کے مطابق احتساب عدالت نے 17 اگست کو نیب کی درخواست کو منظور کیا اور گاڑیاں ضبط کرنے کا حکم جاری کیا، مزید یہ کہ نیب نے 27 اگست کو گاڑیوں کے سرنڈر کرنے کےلیے ہدایت جاری کیں۔

آصف زرداری نے مؤقف اپنایا کہ گاڑیوں کو ضبط کرنے کا فیصلہ غیرقانونی تھا، ساتھ ہی انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اس درخواست کا فیصلہ آنے تک حکم امتناع جاری کیا جائے۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔

اس ریفرنس میں اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید کو بھی ملزم نامزد ہیں۔

مذکورہ معاملے کی 9 ستمبر کی سماعت میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نےسابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، عبدالغنی مجید اور انور مجید پر فرد جرم عائد کردی تھی جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

احتساب عدالت میں دائر ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے کاروں کی صرف 15 فیصد قیمت ادا کر کے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کیں۔

بیورو نے الزام عائد کیا کہ یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سہولت فراہم کی اور تحائف کو قبول کرنے اور ضائع کرنے کے طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر نرم کیا۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری نے ستمبر اور اکتوبر 2008 میں متحدہ عرب امارات سے مسلح گاڑیاں (بی ایم ڈبلیو 750 لی ماڈل 2005، لیکسز جیپ ماڈل (2007) اور لیبیا سے (بی ایم ڈبلیو 760 لی ماڈل 2008) حاصل کیں۔

مذکورہ ریفرنس کے مطابق وہ فوری طور پر اس کی اطلاع دینے اور کابینہ ٖڈویژن کے توشہ خانہ میں جمع کروانے کے پابند تھے لیکن انہوں نے نہ تو گاڑیوں کے بارے میں مطلع کیا نہ ہی انہیں نکالا گیا۔