- الإعلانات -

اداروں کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنا نہیں چاہئے ، نواز شریف کو سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہئے تھا

سیاسی لوگوں کے قول و فعل میں تضاد ختم ہو جائے تو حالات ٹھیک ہو جائیں گے ، ایس کے نیازی

عمران خان بھی زمینی حقائق کی جانب توجہ دیں ، اصل مسائل کیا ہیں ، وزیر اعظم کو سوچنا ہو گا وہ معاملات اور مسائل سے آگاہی حاصل کریں ، دیکھیں عوام کی مشکلات کیا ہیں

نواز شریف آنے کے لئے نہیں گئے، انہوں نے شہباز شریف کو بھی زیر وکر دیا ، ووٹ نواز شریف کا ہی ہے ، وہ ضدی سیاستدان بھی ہیں ، نواز شریف اس بات کو بھول گئے وہ خود کیسے آئے

بلاول کو یہ کریڈٹ دیں گے اے پی سی میں شہباز شریف کو جواب دینے چاہئیں تھے لیکن بلاول نے دیئے ، شہباز کے اعصاب پر مریم نواز سوار تھیں ، قول و فعل میں تضاد ہو تو سیاست تباہ ہوجاتی ہے

شہباز شریف عرصے سے پریشان ہیں وہ کس طرح وزیر اعطم بنیں ، مریم نواز کی شہرت اور پذیرائی بہت زیادہ ہے ، نواز شریف بھی مریم ہی کوچاہیں گا وہ آگے نکلے،شیخ رشید بہت سیانے ہیں

آل پارٹیز کانفرنس نے بہت سے سوالات چھوڑ دیئے ہیں ، آکسفورڈ اور ہاورڈ والے گلی محلے میں گئے ہی نہیں ان کو عوام کے اصل مسائل کا کیا علم ہو گا،روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)آل پارٹیز کانفرنس کامیاب ہوئی ہے ، لیکن اس نے سوالات بہت چھوڑے ہین، ایجنڈے پر عملدرآمد مشکل ہے ، دس دن بعد مخالفت شروع کر دیتے ہیں ، اے پی سی میں مریم نواز بیٹھی تھی، فریال تالپور نہیں تھی، شہباز شریف اپوزیشن لیڈ ر ہے ، مگر انہیں ناکافی سمجھا گیا، اسی وجہ سے مریم نواز کو بٹھایا گیا، ن لیگ میں قد مریم نواز کا ہے ، ندھ میں فیئر الیکشن ہوں وہ نہیں جیت سکتی ، ہو سکتا ہے مولانا فضل الرحمان انتخابات میں سیٹ نکال جائیں ، نواز شریف یا پیپلز پارٹی یا عمران خان وزیر اعظم بنے وہ سب سلیکٹڈ تھے، انتخابات کے حوالے سے اصلاحات ضروری ہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ یہ کچھ ہی عرصہ بعد آپس میں ایک دوسرے کیخلاف ہو جاتے ہیں ، عمران خان سکون میں ہونگے کہ ادارہ جانے اور نواز شریف ، جب پہلی مرتبہ آئی جے آئی بنی تو مصطفیٰ جتوئی صاحب کا نظام زیر غور تھا، مجھے یاد ہے کہ نواز شریف کا فیصلہ نے ہی کر دیا تھا، پہلی مرتبہ نواز شریف وزیر اعظم بنے تو وہ فوج نے ہی بنایا تھا، وزیر اعلیٰ بھی فوج کی وجہ سے بنے ، زرداری صاح کا حال دیکھ لیں ، اداروں پر کیچڑ اچھالنا اچھا نہیں ، اداروں کے پاس یہ لوگ خود جاتے ہیں ، اداروں کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنا نہیں چاہئے ، ادارے بھی سیاستدانوں سے دور رہیں ، نواز شریف کو سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہئے تھے، ضلع کی صورتحال دیکھ کر بیان دیتے ، عمران خان بھی زمینی حقائق کی جانب توجہ دیں ، کہ اصل مسائل کیا ہیں ، وزیر اعظم کو سوچنا ہو گا کہ وہ معاملات اور مسائل سے آگاہی حاصل کریں ، دیکھیں کہ عوام کے مسائل کیا ہیں ، پورا ملک ہی گٹر بنا ہوا ہے ، عمران خان بہت نیک ا ادمی ہیں ، پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسائل ایک جیسے ہیں اکھٹے ہو جاتے ہیں ، پھڑ ٹھنڈا ہوتی ہے تو مخالف ہو جاتے ہیں ، فضل الرحمان کو یقین نہیں کہ یہ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے ، اے پی سی کی گرفت کامیاب نہیں ہو گی ، مگر ممکن ہے کہ کامیاب ہو جائے ، نواز شریف کی تقریر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نواز شریف آنے کے لئے نہیں گئے، شہباز شریف کو بھی زیر وکیا ہے ، نواز شریف کا ووٹ ہے ، وہ ضدی سیاستدان بھی ہے ، باہر وہی کلپ جاتا ہے وہ زہر بھرا ہو تا ہے ، انہوں نے کہا کہ فوج کہتی ہے کہ وہ بالکل سیاست میں نہیں ہے ، نواز شریف اس بات کو بھول گیا کہ وہ خود کسیے آئے ہیں ، فوج کو کیا ضرورت کہ وہ سیاست میں پڑے ، جب فارن پالیسی خراب ہو ، کرپشن ہو تو وہ پریشان ہو تے ہیں ، ان کو سیاست کی کوئی ضرورت ہے ، اتنی بڑی فوج اس کے تحت ہوتی ہے ، نواز شریف بھول گئے عمران خان نے کہا تھا کہ الیکشن اصلاحات کریں ، لیکن اصلاحات کرتے ہی نہیں ہیں ، اب جیو بھٹو کے لوگ کم رہ گئے ہیں ، زردادی نے پیپلز پارٹی کو ختم کرنے میں محنت کی ہے ، بلاول کو یہ کریڈٹ دیں گے کل شہباز شریف کو جواب دینا چاہتے تھے، بلاول نے سوالوں کے جواب دیئے ، شہباز کے اعصاب پر مریم نواز سوار تھی ، قول و فعل میں تضاد ہو تو سیاست تباہ ہے ، اس میں تضاد نہ ہو تو معاملات بہتر ہونگے ، شیخ رشید بھی بہت سیانے ہیں ، شہباز شریف عرصے سے پریشان ہیں ، کہ وہ کس طرح وزیر اعطم بنے ، مریم نواز کی شہرت اور پذیرائی بہت ہے ، نواز شریف بھی مریم ہی چاہے گا وہ آگے نکلے ، سیاسی لوگوں کے قول و فعل میں تضاد ختم ہو گیا تو حالات بہتر ہو جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ بلاول کا قول درست اگر فعل بھی اسی طرح ہو گا تو ٹھیک مگر قوم و فعل میں تضاد ہوتا ہے ، فضل الرحمان قابل احترام ہیں ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا تو ختم ہو چکا ہے ، حکومت نے ایک دو چینل پکڑ لئے ہیں ، عمران خان میرے اخبار میں کالم لکھتے رہے ہیں ، مگر وہ ریٹنگ دیکھتے ہیں ، 6000کیبل اور 6کروڑ ٹی وی مالکان ہیں ، اپوزیشن نے درست کہا کہ میڈیا کو رگڑ دیا ہے ، عمران خان نیک محنتی ہیں لیکن فیڈل میں ڈیلوری کچھ بھی نہیں ، راولپنڈی میں سڑکوں کے مسائل ، آج سی ڈی اے اس لئے اچھی ہوئی کہ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ کنسٹرکشن پر نہیں پوچھیں گے ، ساڑھے تین ارب آئے ہیں ، سی ڈی اے کچھ نہیں کر رہا ہے ، سی ڈی اے کا کوئی کمال نہیں ، یہ عمران خان کی پالیسی کاکمال ہے کہ کنسٹرکشن پر نہیں پوچھیں گے، میں کہتا ہوں ان کو آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لینا پڑے گا ، سی ڈی اے کو کنٹرول کریں ، ریکوڈک کو دیکھ لیں ، پبلکسرمایہ نکال لیتی ہے ، اس ملک کو فائدہ ہو رہا ہے ، اس کا کریڈٹ عمران خان کے بیان کو جاتا ہے ، وزیر اعظم کے زیر تحت جو ادارے ہیں وہ درست ہو جائیں گے ، آکسفورڈ اور ہاورڈ والے گلی محلے میں گئے ہی نہیں ، میں نے مجید نظامی سے سیکھا میں گلی گلی محلے محلے گیا، حالات کو دیکھا بھر جرنلسٹ بنا ، وزیر اعظم وہاں اختیار استعمال کرے جس کو تجربہ ہو، اس کو تعینات کرے ، حکومت کا ووٹر دیہات میں ہے ، شہر میں اتنا نہیں ، میڈیا کے مسائل وزیر اعظم تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں ، عمران خان لوگوں کو ملتے نہیں ، وہ میرے پاس میلوڈی میں آتے تھے، ملتے تھے، عمران خان محب وطن ہے ، مگر کچھ کر نہیں پا رہے ، دو سال گزر چکے گھر کدھر، نوکریاں کدھر ہیں ، لا ء آف لنڈ کے اہتمام تک حالات درست نہیں ہو سکتے ، ادارے درست کرنے کی ضرورت ہے ، کرپشن ختم نہیں ہوئی، ریٹ مزید بڑھ گئے ، ماضی پر تو دوڑ رہے ہیں ، موجودہ کرپشن کو کنترول کریں ، یہ سیاستدان عسکری قیادت کے سامنے خود جا کر منتیں سماجتیں کرتے ہیں ، سب قومی مفا د کے بل منظور کرائے گئے ہیں ، قومی اسمبلی سے استعفے دیں یا پھر اے پی سی توڑ دیں ، پریس کانفرنسوں سے سب اچھا لیکن کام کچھ نہیں ہو رہا ، افتتاح کرنا چھا مگر عمل نظر نہیں آرہا ہے ، واحد عمران خان وزیر اعظم ہے جس کو فوج اور سپریم کورٹ کی حمایت حاصل ہے ، یہ دونوں ادارے عمران خان کو ایماندار آدمی سمجھتے ہیں ، واحد وزیر اعظم ہیں جس کو تین چیف جسٹس صاحبان صادق اور امین کہہ چکے ہیں ، صدارتی نظام اگر عوام کے لئے اچھا ہے ، ایوان میں ڈسکس کریں ، اٹھارویں ترمیم کی کلاز ڈسکس کریں ، عوام کیلئے وہ نظام لائیں جو عوام کے مفاد میں ہو ، لیڈر کی نیت صاف ہونے سے کرنا کے مسائل پر قابو پا لیا ، عمران خان نے کرونا کیلئے کچھ نہ کیا، ان کی نیت صافھ تھی ، اس لئے اللہ نے ان کا ساتھ دیا، اچھی اور تجربہ کار ٹیم ساتھ رکھیں ، اور عوامی مسائل کو حل کر نے پر توجہ دیں ۔

ایس کے نیازی