- الإعلانات -

اٹھارویں ترمیم کو ئی صحیفہ نہیں جس میں کو ئی تبدیلی نہیں ہو سکتی،بیرسٹر سیف

اختیارات کو ختم کرے اور بلدیاتی اداروں کو دے تو یہ مسائل حل ہونگے ، پھر سیاستدان قومی سطح پر کام کر سکیں گے

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ) بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ جو قومی سلامتی کے امور ہیں اس حوالے سے قانون سازی ہے ، نیب سے اپوزیشن خاءف ہے ، اپوزیشن کے پاس اختیارات تھے، جو چاہتے تھے وہ کرالیتے کیوں نہیں کیا، روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام میں روزانہ چیلنجز ہوتے ہیں ، 2018کے انتخابات پر اعتراضات ہوئے ، الیکشن کے حوالے سے جو کمیٹی بنی ، اپوزیشن بھی شامل تھی، اجلاس کرنے پر راضی نہ تھا، اس لئے یہ مسئلہ ابھی تک پڑا ہوا ہے ، پھر سب کوچ سائیڈ رکھیں ، کیا ن لیگ میں پیپلز پارٹٰ میں مریم نواز اور بلاول سے کوئی میچور نہیں ،

بیرسٹر سیف نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی سے اتحاد چل رہا ہے ، کراچی کے مسائل بھی ہیں ، ہماری کوشش ہے کہ اتحاد درست چلے ، کوشش ہے کہ وفاق سے مل کر عوامی مسائل حل کریں ،

ایس کے نیازی نے کہاکہ جرائم میں کچھ لوگ ایم کیو ایم کے لوگ بھی ملوث ہیں ۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیاں اختیارات کا استعمال کرتے ہیں ، ان اختیارات کو ختم کرے اور بلدیاتی اداروں کو دے تو یہ مسائل حل ہونگے ، پھر سیاستدان قومی سطح پر کام کر سکیں گے ، بھارت نے بلدیاتی نظام مسحکم کر کے مسائل کو حل کیا ۔ 18ویں ترمیم کے حوالے سے سوال پر بیرسٹر سیف نے کہا کہ میں نے سینیٹ میں 18ویں ترمیم کے حوالے سے کہا کہ یہ مقد س صحیفہ نہیں اس میں تبدیلی ہونی چاہئے ، میں دو تین مرتبہ قراردیں پیش کیں ، مگر جارحانہ رد عمل سامنے آیا ، اپوزیشن بھی ساتھ مل جاتی ہے کئی صوبے محروم ہیں ، ان کی ضروریات کو مدنظر رکتھے ہوئے ان کی مدد کریں ، اس بات پر پارلیمنٹ میں بہت ہنگامہ ہوا، اور مولانا عطاء الرحمان نے بہت شور مچایا اور مجھ پر انہوں نے الزام تراشیاں کیں ، حالت یہ ہے کہ جیسے آپ 18ویں ترمیم پر بات کرتے ہیں ، تو اپوزیشن شور مچانا شروع کر دیتی ہے ،