- الإعلانات -

جسٹس فائز عیسٰ کیس کا تفصیلی فیصلہ جلد آنے کا امکان

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس پر 19 جون کے مختصر حکم کے بعد منتظر تفصیلی فیصلے کا جلد اعلان کردے گی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے سینئر وکیل حامد خان سے حتمی فیصلے کا انتظار کرنے کو کہا جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

عدالت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے 11 اکتوبر 2018 کو جج کے عہدے سے ہٹانے کے نوٹیفکیشن کے خلاف اپیل پر سماعت ہورہی تھی۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس عمر عطا بندیال نے حامد خان سے کہا کہ وہ بینچ کو مطمئن کریں کہ آئین کے آرٹیکل 211 کی پابندیوں کو کیسے عبور کریں جو کسی بھی عدالت کے سامنے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے ذریعہ کی جانے والی کارروائی اور اس کی صدر کو بھیجی گئی رپورٹ اور آئین کے آرٹیکل 209 (6) کے تحت جج کی برطرفی کو چیلنج کرنے پر پابندی عائد کرتی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یا تو وکیل کو عدالت میں آرٹیکل 211 کی رکاوٹ کو عبور کرنے کے لٰے تین بنیادیں قائم کرنے پر قائل کرنا چاہئے جیسا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کیس میں کیا گیا تھا۔

افتخار محمد چوہدری کے کیس میں کہا گیا تھا کہ صدر کو ریفرنس بھیجنا اور جوڈیشل کونسل کی رپورٹ میں غلط حقائق بیان کیے گئے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ‘یا تو حامد خان اس (تفصیلی) فیصلے کا انتظار کرسکتے ہیں جس کا جلد اعلان کیا جارہا ہے’۔

واضح رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال ان 10 ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ کی سربراہی کر رہے تھے جس نے سپریم کورٹ کے قائمہ جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی تھی۔

اس سے قبل 13 فروری کو بینچ نے وکیل کو بتایا تھا کہ سابق جج شوکت صدیقی کی اپیل میں اٹھائے گئے نکات اوورلیپ ہیں اور جسٹس عیسیٰ کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کی طرح تھے۔

خیال رہے کہ 10 ججز پر مشتمل فل کورٹ بینچ نے 19 جون کو مختصر حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں اس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان کی اہلیہ اور بچوں کے نام پر تین غیر ملکی جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے صدارت ریفرنس کو منسوخ کردیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ درخواست گزار صدر کو بھیجی گئی سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کو چیلنج کررہا ہے جس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے۔