- الإعلانات -

اسلام آباد کیلئے اربوں روپے کے پرا جیکٹس لا رہے ہیں ،میاں برادران کی ساری فیملی ٹی ٹی زدہ ہے ،علی نواز اعوان

پی ڈبلیو ڈی انٹر چینج، کو رنگ برج ، راول ڈیم پر اوورہیڈ برج ، 10thایونیو ، برما برج ، کیانی برج، غازی بروتھا سے پانی اسلام آباد لا رہے ہیں

کورنگ برج کا افتتاح کر دیا،ساءٹ آفس بن گیا، کام ہو رہا ہے ، بہت ساری سروسز وہاں سے گزر رہی ہیں ،ان کو بھی محفوظ کرنا ہے

موریاں گاءوں کو ماڈل ویلج بنانے جا رہے ہیں ،جن زمینوں کی سی ڈی اے کے تحت ابھی نیلامی ہوئی ہے وہاں پر ڈویلپمنٹ کام ہو رہا ہے

بلیو ایریا کو بھی مزید آگے لیکر بڑھیں گے، ;71;-11 ، ترنول میں بھی ہسپتال بنائیں گے ، بہارہ کہو میں قبرستان بنانے جا رہے ہیں ،سچی بات میں گفتگو

اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)شہباز شریف کونیب گرفتار کر نا چاہتا تھا، یہ وہی عدالتیں ہیں جنہوں نے ان کی ضمانتیں منظور کیں ، پی ٹی آئی کا اس گرفتار سے کوئی لین دین نہیں ، ان ہی عدالتوں نے انہیں گرفتار کیا ، اگر ہمارے خلاف کبھی کوئی کیس دائر ہوتا ہے تو ہ میں اپنے ذراءع ثابت کرنے ہونگے ، لیکن میاں برادران کی ساری فیملی ٹی ٹی زدہ ہے ، حمزہ شہباز بھی ٹی ٹی زدہ ہیں ، آخر ان کے بچوں کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی ، شہباز کہتے ہیں کہ بھٹو کے دور میں بھی ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ، آخر یہ جب بھی حکمرانی میں آتے ہیں تو ہی ان کے اثاثے ایک ہزار فیصد کیسے بڑھ جاتے ہیں ، اربوں روپے کے منصوبوں پر لگانے کے بہانے لوٹ لئے ، جو غریب ٹیکس دے رہا ہے جو امیر دے رہا ہے ان کے بچوں کا علاج ، تعلیم ، سب کچھ باہر ہے ، آخر ان کا پاکستا ن سے کیا تعلق ہے ، یہ صرف پاکستان میں حکمرانی کرنے آتے ہیں ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل حکومت نیب کی جو 36کلازز ہیں ، انہوں نے 34 میں ترامیم کی ہیں ، آئیں ہم نیب لاء تبدیل کرنے کیلئے تیار ہیں ، فیٹف لاء پاکساتن کیلئے بہت ضروری ہے ، دنیا کہہ رہی تھی کہ منی لانڈرنگ ر آپ نے قانون سازی کرنا تھی، ، مگر آپ نے نہیں کی ، جس کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ میں چلا گیا، علی نواز اعوان نے کہا کہ انہوں نے 18ویں ترمیم کی ہوئی ہے ، سب کچھ ان کی مرضی سے ہوا ہے ، ہم ایوان میں 18ویں ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہیں ، پاکستان میں گندم کا بحران 18ویں ترمیم کی وجہ سے آیا ، کیونکہ ان لوگوں نے زراعت کو تباہ کر دیا، پنجاب ، سندھ بڑے صوبے ہیں ، پنجاب میں قیمت برقرار رکھنے کیلئے عوام کو گندم دے رہے ہیں ، کورنا کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے اپنی اپنی منصوبہ بندی تبدیل کی ، انہوں نے کہاکہ میں اٹھارویں ترمیم کی بہت سی ترامیم کے حق میں ہوں ، خصوصی طور پر اختیارات تفویض کرنے کے حوالے سے بات کی جائے تو وہ مثبت ہے ، جب کرونا آیا سندھ نے ایسی پالیسی اختیار کر لی ، اور سب کچھ بند کر دیا، ہم نے بھوک اور کرونا سے لڑنا تھا، الحمد اللہ ہم نے اس پر قابو پایا ، این سی او سی بنائی، 18ویں ترمیم کے حوالے سے ہماری پارٹی میں بھی بات ہو رہی ہے ، 1973کا آئین بنا اور اگے سال 14ترامیم ہو گئیں ، جو بھی ہو رہا ہے اس میں مزید اختیار ہونا لازمی ہے ، اے پی سی کو خوش آمدید کہتے ہیں ، عمران خان کہتے تھے کہ جب احتساب یا قانون ٹھیک کرنے کی بات کرونگا تو سب چور اکھٹے ہو جائیں گے، راولپنڈی اسلام میں میٹرو بنی ، پشاور میں بھی بی آر ٹی بنی ، جب لاہور میں میٹرو نی تھی تو مسائل کا سامنا کرنا پڑا ، اس حوالے سے اور بھی مسائل سامنے آئیں گے ، یہ بسیں پہلی دفعہ پاکستان آئیں ہیں ، مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، نیب کے سارے لوگ ان لوگوں نے تعینات کئے ، تحریک انصاف کہاں سے آئی ، ان لوگوں میں لیڈر نہیں ، ان میں خود لڑائیاں ہیں ، فوج کرونا کیخلاف کام کر رہی ہے ، ہ میں حکومت ملی تو خزانے کو نقصان ہی نقصان تھا، میں تسلیم کرتا ہوں مہنگائی ہوئی، بجلی ، گیس مہنگی ہوئی ، یہ فیصلے لیڈر کر سکتا ہے ، حکمران یہ فیصلے نہیں کر سکتے ، حکمران اقتدار دیکھتا ہے اور لیڈر آنے والی نسلوں کو دیکھتا ہے ، ان لوگوں نے ملک میں پیداواری صلاحیت تباہ کر دی، عوام کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی ، جہاں تک ادویات مہنگی ہونے کی بات ہے تو ہمارے اوپر 200ارب کا قرضہ چڑھ گیا ، ہم سستی بجلی کب تک فراہم کر سکتے ہیں ، امیر لوگوں کو ملک میں سرمایہ کرناچاہئے ، امپورٹ زیادہ ایمپورٹ کم تھیں ، ان کے دور میں 5سال میں یہ تمام کام منفی میں چلا گیا، پہلے لوگ مافیا سے بلیک میل ہوتے تھے ، اب ایسا نہیں ہو گا، آج انٹر نیشنل مارکیٹ سے چینی اور گندم منگوائی ، جب یہ چیزیں مارکیٹ میں فراہم کر دیں تو ہم بلیک میل نہیں ہونگے ،سی ڈی اے ماسٹر پلان پر کام شروع کر دیا گیا ہے ، 57ارب کی تاریخی نیلامی ہوئی ہے ، 18لاکھ کا گز بہت بڑی کامیابی ہے ، سی ڈی اے کی کاوشیں بھی شامل ہیں ، عمران خان کا وژن ہے کہ جب تک تعمیرات کے شعبے کو نہیں اٹھایا جائے گا روزگارکے ذراءع نہیں پیدا ہونگے ، وزیرا عظم اس حوالے سے اجلاسوں کی صدارت خود کرتے ہیں ، جی سیون کے انڈر پاس کا دو دن بعد افتتاح ہو جائیگا، پی ڈبلیو ڈی انتر چینج کا ایوارڈ دیا گیا ہے ، اس سے متعلقہ منصوبوں کے لئے رقم رکھی ہے ، سو سائیٹیوں کے حوالے سے علی نواز اعوان نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی انٹر چینج، کو رنگ برج ، راول ڈیم پر اوور برج ، 10thایونیو ، برما برج ، کیانی برج، غازی بروتھا سے پانی اسلام آباد لا رہے ہیں ، اسلام اباد کو اونر شپ دینگے ، ڈومیسائل کی اونر شپ دی ہے ، 78فیصد کوٹہ سرمایہ کار ی ملازمت کو دی ہے ، میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے ، انہوں نے کہا کہ لوگوں نے زمین خریدی ، گھر بنائے 1992کے بعد سی ڈی اے نے ;6847;12سیکٹر بنایا، ہم لوگوں نے اسلام آباد بسایا ہمارا سب کچھ اسلام آباد میں ہے ، جب سیکٹر افورڈ نہیں کر سکتے تو پھر لوگ سو ساءٹی کی طرف جا ئیں گے، غوری ٹاءون کا مسئلہ ہے کہ گیس ، بجلی کے میٹر نہیں لگ رہے ، اس مسئلے کو کابینہ میں لیکر گئے ، 2004کا فیصلہ تھا کہ اسلام آباد میں مشروم گروتھ نہیں ہونے دینا ، کیبنٹ نے منظوری دی ہے ، پھر ہم سپریم کورٹ جائیں گے ، اور فیصلہ ہوگا اس میں صرف تین ماہ لگیں گے ، نیپرا پورے پاکستان میں کنکشن دیتا ہے ، اوگرا جب زمین آپ نے نام ہے تو وہ بجلی گیس دے گا، اسی بنیاد پر ہم سپریم کورٹ جائیں گے ، پی ڈبلیو ڈی سے کورنگ برج کا افتتاح کر دیا،ساءٹ آفس بن گیا، کام ہو رہا ہے ، بہت ساری سروسز وہاں سے گزر رہی ہیں ،ان کو بھی محفوظ کرنا ہے ، تین ماہ میں مین ٹریفک کامسئلہ حل کردینگے ، متاثرین اسلام آباد کے حوالے سے کمیشن بنایا ہے لیکن اس کمیشن کا کبھی اجلاس نہیں ہوا، 60;46;50سال پہلے لینڈ کا پی یو پی ایوارڈ ہوا تھا 40سال سے 4460لوگ لٹک رہے ہیں ، ;70;-12;47;اور ;73;-12کی حد تک یہ مسئلہ حل کر لیا ہے، ہم نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے ، موریاں گاءوں کو ماڈل ویلج بنانے جا رہے ہیں ،ا س گاءوں کے لوگ بھی اس سلسلے میں تعاون کرنے کو تیار ہیں ، جن زمینوں کی سی ڈی اے کے تحت ابھی نیلامی ہوئی ہے وہاں پر ڈویلپمنٹ کام ہو رہا ہے ، 25فیصد ڈاءون پیمنٹ پر وہاں ترقیاتی کام شروع کر دیا جاتا ہے ، بلیو ایریا کو بھی مزید آگے لیکر بڑھیں گے، ;71;-11 میں ہسپتال بنا رہے ہیں ، ترنول میں بھی ہسپتال بنائیں گے ، بہارہ کہو میں قبرستان بنانے جا رہے ہیں

علی نواز اعوان