- الإعلانات -

( ملک کو سنوارنا ہے تو گلی محلے میں جائیں )سرکاری اور سیاسی عہدوں پر براجماں لوگوں کو کو ئی بھی کا روبار نہیں کرنا چاہیئے،ایس کے نیازی

جب انسان پاور میں آتا ہے تو جو کاروبار بھی کرتا ہے وہ کرپشن ہی ہوتی ہے ، بنیادی طور پر حالات خراب ہیں ، میں اس حق میں نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو گھسیٹاجائے
نواز شریف اور شہباز شریف کا راستہ ایک ہے ، شہباز کے مقابلے میں مریم نواز کی عوام میں زیادہ پذیرائی ہے ،
پاور گیم میں کوئی کسی کا رشتہ دار ، باپ ، بھائی نہیں ہوتا،گلی محلے میں جا کر حالات دیکھئے ، بنیادی مسائل کو حل کریں ،پروگرام سچی بات میں گفتگو
نواز شریف جیسے جیسے با اختیار ہوتے گئے کاروبار کو وسعت دیتے گئے ، ٹرمپ نے دور اقتدار میں اس نے بزنس کوئی نہیں کی
اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)پرویز مشرف کا جب واقعہ ہوا اس کی تاریخ مجھے پتہ ہے ، جب نواز شریف کو جلاوطن کیا تو شہبا شریف نہیں گئے ، لیکن شہباز شریف اسی پیج پر ہے جس پر نواز شریف تھے، شہباز شریف کی سیاسی حیثیت کوئی نہیں ، نواز شریف کے ساتھ شہباز چلے گئے ، یہ مفاہمت کی سیاست نہیں کر تے میں اس حق میں نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو گھسیٹاجائے ، میں آرمی چیف سے متعدد مرتبہ ملا ، آرمی چیف کہتے ہیں ہم وہی کرتے ہیں جو وزیر اعظم کہتا ہے ، دونوں بھائی ملے ہوئے ہیں ، مگر دکھاوا اور طرح کرتے ہیں ، ان خیالات کا اظہارپاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کا راستہ ایک ہے ، شہباز کے مقابلے میں مریم نواز کی عوام میں زیادہ پذیرائی ہے ، پاور گیم میں کوئی کسی کا رشتہ دار ، باپ ، بھائی نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ نواز شریف شہباز کا وطیرہ رہا ہے کہ ایک بگاڑ کرتا رہے دوسرا بنا کر رکھے ، بات یہ ہے کہ زرداری ہو یا نواز شریف ، جب انسان پاور میں آتا ہے تو جو کاروبار بھی کرتا ہے وہ کرپشن ہی ہوتی ہے ، نواز شریف جیسے جیسے با اختیار ہوتے گئے کاروبار کو وسعت دیتے گئے ، ٹرمپ سے زیادہ بزنس کسی کا نہیں تھا لیکن اپنے دور اقتدار میں اس نے بزنس کوئی نہیں کیا ، سب کچھ بند کر دیا، زرداری ، نواز نے اپنے کاروبار بڑھائے لوگوں کے اکاءونٹ سے کروڑوں اربوں برآمد ہوئے ، ایسے معاملات پر فیصلے ہو جانے چاہئیں ، میرے حساب سے کسی سرکاری اہم عہدے پر ہوں تو کاروبار نہیں رکھنا چاہئے ، حکومت کے وزراء کا بزنس ہے ، وہ بھی کاروبار بڑھانے کے چکر میں ہیں ، ملک کو سنوارنا ہے تو گلی محلے میں جائیں ، صدرمملکت کا کھانا تھا وہاں بھی اسی بات کو میں کہا کہ گلی محلے میں جا کر حالات دیکھئے ، بنیادی مسائل کو حل کریں ، بنیادی طور پر حالات خراب ہیں ۔