- الإعلانات -

صحافیوں کے تحفظ کیلئے پاکستان بار کونسل کی کمیٹی تشکیل

اسلام آباد: اختلاف اور اظہار رائے کے لیے جگہ تیزی سے سکڑنے کے تصور کے دوران وکلا برادری کے امور کو منظم کرنے والے ادارے پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری 7 رکنی ‘جرنلسٹک ڈیفنس کمیٹی’ تشکیل دے دی۔

کہ پی بی سی کے مطابق یہ کمیٹی سائبر کرائم کے سخت قانون کے ذریعے، خاص طور پر صحافیوں کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور صحافتی طریقوں کے تقاضوں کے مطابق آزادانہ طور پر اپنے فرائض کی انجام دہی کو مشکل بنانا کر آزاد اظہار رائے کو دبانے کی حکومت کی مبینہ پالیسیوں کے تناظر میں قائم کی گئی۔

پی بی سی کے چیئرمین عابد ساقی کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی اسلام آباد/ راولپنڈی کی عدالتوں میں صحافیوں اور ان کی منتخب باڈیز کو اظہار کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی معاونت فراہم کرے گی۔

کمیٹی کے سربراہ بیرسٹر جہانگیر جدون ہیں جبکہ ان کے ساتھ ایڈووکیٹ محمد عثمان وڑائچ، کرنل (ر) انعام الرحیم، ساجد تنولی، بابر حیات سمور، عمر گیلانی اور حیدر امتیاز بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ کوئی بھی متاثرہ صحافی قانونی مدد یا خدمات کی ضرورت میں کمیٹی سے رابطہ کرسکتا ہے۔

ادھر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے کوئٹہ میں اپنے حالیہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر ملک میں پریس کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی سے انکار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

صحافیوں کا اغوا، خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنا اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمٰن کی احتساب کے چکر میں طویل قید نے نہ صرف میڈیا بلکہ وکلا برادری کو بھی خوفزدہ کردیا ہے۔

قبل ازیں پیر کو سپریم کورٹ کی پریس ایسوسی ایشن کی حلف برداری کی تقریب سے اظہار خیال میں سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی رپورٹرز ود آؤٹ بارڈز کے تحت شائع ہونے والے فریڈم انڈیکس کا بھی ذکر کیا تھا جہاں 180 ممالک کا جائزہ لے کر ان کی پریس کی آزادی کے حساب سے ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق اس میں پاکستان کی درجہ بندی بہت نیچے رکھی گئی تھی اور 18-2017 میں اس کا آزادی کا انڈیکس 139 پر تھا جو 2019 میں مزید نیچے گرتے ہوئے 142 تک پہنچ گیا جس کے بعد یہ مزید شرمناک حد تک گر کر 145 پر جاپہنچا ہے۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج نے کہا تھا کہ جب شہری پریس کی آزادی کے لیے لڑتے ہیں تو وہ اپنے حقوق کے لیے لڑتے ہیں، اگر لوگ اپنے اظہار کی آزادی کو سرنڈر کردیتے یا پریس کی سینسرشپ کی اجازت دیے دیتے ہیں تو دیگر دی گئی آزادیوں کو واپس لینے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگے گا۔