- الإعلانات -

پولیو کے خاتمے، بچوں میں قوت مدافعت کیلئے ویکسین کی متعدد خوراکیں ضروری ہیں، ماہرین

پاکستان 2017 میں پولیو وائرس کے خاتمے کا تقریبا اعلان کرنے ہی والا تھا، اس سال، پاکستان میں گزشتہ 3 دہائی کے سب سے کم پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور یہ دنیا میں وائرس سے متاثرہ واحد ملک رہ گیا تھا۔

تاہم اب 3 سال گزر جانے کے باوجود مقامی اور بین الاقوامی صحت کے حکام مشترکہ طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، رواں سال میں اب تک پولیو وائرس کے 72 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ 2017 میں یہ تعداد صرف 8 تھی تاہم گزشتہ سال اس حوالے سے انتہائی برا ثابت ہوا تھا جس میں 134 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جس نے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔

پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام (پی پی ای پی) کے مطابق ‘تنازعات، سیاسی عدم استحکام، آبادی تک پہنچنے میں دشواریوں اور خراب انفرا اسٹرکچر اس بیماری کے خاتمے میں چیلنجز کا باعث ہے’‎

اسی دوران، انکار میں اضافے کی وجہ سے مہم کو مزید نقصان پہنچا ہے، سالوں سے پولیو ویکسین کے خلاف متعدد سازشی نظریات افواہوں کی صورت میں گردش کررہے ہیں، جس میں ‘پولیو ویکسین کے باعث بانجھ پن کے خطرات’ سے لے کر ‘یہ مغربی سازش ہے’ جیسی افواہیں بھی شامل ہیں۔

ویسے تو پی پی ای پی نے ایسی افواہوں کے خاتمے اور عوام کو بچوں کے لیے ویکسین کی اہمیت سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے متعدد کوششیں کی ہیں لیکن اس کے باوجود ویکسین سے انکار میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، رواں سال کے آغاز میں صحت کے حکام نے ڈان کو بتایا تھا کہ صرف ضلع پشاور میں جنوری میں ویکسین سے انکار کے 38 ہزار کیسز جبکہ فروری میں 51 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔