- الإعلانات -

حکومت ستمبر میں ریونیو کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں ماہانہ ہدف ضائع ہونے کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت کی محصولات کی وصولی ہدف سے تجاوز کر گئی۔

ستمبر میں محصولات کی وصولی 401 ارب روپے رہی اور 4فیصد کمی کے ساتھ ساتھ 418ارب کے ماہانہ ہدف کے حصول سے محروم رہا، دریں اثنا ستمبر 2019 کے مقابلے میں جمع شدہ رقم میں فیصد رہا جہاں گزشتہ سال 381ارب روپے رہا تھا۔

مزید یہ کہ بُک ایڈجسٹمنٹ اور مفاہمت کے بعد حکومت اضافی محصول وصول کرے گی

جولائی سے ستمبر کے دوران ایف بی آر نے اسی مدت کے لیے 970ارب روپے کے متوقع ہدف کے مقابلے میں 999 ارب روپے جمع کیے ہدف سے زیادہ 29ارب یا 2.9 فیصد زیادہ عبور کیا۔

پہلی سہ ماہی میں 48ارب روپے کے ری فنڈ کی ادائیگی میں گزشتہ سال کی 30ارب کی ادائیگی کے مقابلے میں 59 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو معاشی سرگرمیوں میں تیز رفتاری کا عندیہ دیتی ہے جو کووڈ کے بعد کی مدت میں صنعتی پیداوار کی بحالی کے باعث ممکن ہوئی۔

حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کو مالی سال 2021 میں 4.979 کھرب روپے اکٹھا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جو مالی سال 20 میں جمع ہونے والے 3.99کھرب روپے تھی – جس میں متوقع طور پر 24.4 پی سی کا اضافہ ہوا ہے۔

تاہم ہدف کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے 974 ارب روپے کی اضافی آمدنی کے حوالے سے کوئی منصوبہ ابھی طے نہیں کیا ہے۔

پہلی سہ ماہی کے دوران انکم ٹیکس وصولی کا ہدف ایک ارب روپے کمی سے ایک ارب روپے کمی سے 361 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال کے اسی مہینوں کے دوران 362 ارب روپے جمع کیے گئے تھے، اس سہ ماہی کے لیے انکم ٹیکس وصولی کا ہدف 381ارب روپے تھا جو 20 ارب روپے کم رہا۔

کئی اقدامات متعارف کروانے کے باوجود انکم ٹیکس کا محصول وصول کرنا توقع سے بہت کم ہے۔

دریں اثنا جولائی سے ستمبر کے دوران سیلز ٹیکس کی وصولی گزشتہ سال کے 422 ارب روپے کے مقابلے میں 477ارب روپے ہو گئی اور اس میں 13فیصد کا اضافہ دکھایا گیا ہے، سیلز ٹیکس وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہدف 396 ارب روپے تھا جو گزشتہ سال اسی مہینوں میں کی گئی وصولی سے کم ہے، ستمبر میں پی او ایل کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے نتیجے میں متاثر کن سیلز ٹیکس کی وصولی ہوئی ہے۔

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی وصولی 58 ارب روپے ہو گئی جو پچھلے سال 51 ارب روپے تھی جس میں 15 فیصد کا اضافہ دکھایا گیا ہے، پہلی سہ ماہی کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا ہدف 588 ارب روپے رکھا گیا تھا۔

مزید برآں سہ ماہی میں کسٹم کی وصولی 151ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ پچھلے سال کے اسی مہینوں میں 159ارب روپے جمع ہوئے تھے جس میں 5فیصد کی کمی ظاہر ہوتی ہے، ان مہینوں میں حکومت نے 134 ارب روپے آمدنی کا ہدف پیش کیا گیا ہے۔

کووڈ۔19 انفیکشن میں سست روی کے بعد اب متعدد معاشی محرکات اور امدادی اقدامات کے ذریعے ملک میں معاشی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں، ستمبر میں ہونے والی وصولیوں سے پتہ چلتا ہے کہ محصول کی درآمدات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں ستمبر میں مجموعی طور پر سیلز ٹیکس وصولی میں 14 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

رات گئے ایک اور سرکلر میں ایف بی آر نے افراد اور کمپنیوں کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 8 دسمبر تک توسیع کردی گئی ہے۔