- الإعلانات -

نوازشریف کی جائیدادوں کی تفصیل منظر عام پر

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو نے نوازشریف کی جائیدادوں کے متعلق تفصیلی رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کرائی ہے جس میں سابق وزیراعظم کے نام زرعی زمین، گاڑیاں، بینک اکاؤنٹس اور مختلف کمپنیوں میں شیئرز کا ذکر کیا گیا ہے۔

نیب کے تفتیشی افسر محمد راحیل اعظم نے احتساب عدالت میں رپورٹ جمع کرائی ہے۔ نیب نے جائیداد کی تفصیل کیلئے ایس ای سی پی، ایل ڈی اے، لاہور اور شیخو پورہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، مری کے اسسٹنٹ کمشنر اورگلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے رابطہ کیا تھا۔

نیب کی رپورٹ کے مطابق محمد بخش ٹیکسٹائل ملزمیں نواز شریف کے 4لاکھ 67 ہزار 950 شیئرز ہیں۔ حدیبیہ پیپر ملزمیں3لاکھ 43 ہزار425، حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی میں22 ہزار213 اور اتفاق ٹیکسٹائل ملز میں نواز شریف 48ہزار 606 شیئرز کے مالک ہیں۔

قائد مسلم لیگ ن کے مختلف نجی بینکوں میں 3غیر ملکی کرنسی اور پانچ دیگر اکاؤنٹس ہیں۔ پانچ بینک اکاؤنٹس میں نواز شریف کے 6 لاکھ 12 ہزار روپے موجود ہیں۔ غیر ملکی کرنسی والے اکاؤنٹس میں566 یورو، 698 امریکی ڈالرز اور 498 برطانوی پاؤنڈز ہیں۔

نواز شریف اور ان کے زیر کفالت افراد کے نام لاہور، شیخو پورہ ، مری اور ایبٹ آباد میں جائیدادیں ہیں۔ مری میں بنگلہ، چھانگلہ گلی ایبٹ آباد میں 15 کنال کا مکان اور اپر مال لاہور پر بھی سابق وزیراعظم کی جائیداد ہے۔

قائد ن لیگ اور ان کے زیر کفالت افراد کے نام 1752 کنال سے زائد زرعی اراضی ہے۔ لاہور کے موضع مانک میں936 کنال، موضع بڈوکسانی299 کنال، موضع مال رائے ونڈ103 کنال، موضع سلطان 312 کنال، شیخو پورہ کے موضع منڈیالی میں 14 کنال اور موضع فیروزوطن میں 88 کنال اراضی ہے۔ ایک لینڈ کروزر، 2 مرسڈیز گاڑیوں اور 2 ٹریکٹرز بھی سابق وزیراعظم کے نام ہیں۔

گزشتہ روز اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم کے اثاثے قرق کرنے کا حکم دیا تھا۔

مذکورہ کیس میں نوازشریف پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابقہ دور حکومت میں توشہ خانے سے گاڑی حاصل کی اور اسکی ادائیگی انورمجید نے جعلی بینک اکاؤنٹ سے کی۔ نواز شریف 2008 میں کسی بھی عہدے پر نہیں تھے اور انہوں نے توشہ خانے سے گاڑی حاصل کرنے کیلئے کوئی درخواست بھی نہیں دی تھی۔