- الإعلانات -

پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی عوام کیلئے بڑی خوشخبری ،ایکنگ نے منظوری دے دی

اسلام آباد: قومی اقتصادی کونسل (ایکنک) کی ایگزیکٹو کمیٹی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لیے 410 ارب 66 کروڑ روپے کے 3 بجلی منصوبوں کے علاوہ 162 ارب 60 کروڑ روپے کے 7 بڑے روڈ منصوبوں کی منظوری دے دی۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحیفظ شیخ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس جمعرات کو یہاں کابینہ ڈویڑن میں منعقد ہوا جس میں ٹڈی دل ایمرجنسی اور فوڈ سیکیورٹی پروجیکٹ کی منظوری بھی دی گئی، ٹڈی منصوبے کے لیے ورلڈ بینک 20 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔

ایکنک نے انڈس ہائی وے این۔55، شکارپور، راجن پور سیکشن (221.95 کلو میٹر) سڑک کی تعمیر کی منظوری دی، منصوبہ44 ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا اور منصوبے کے لیے فنڈ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی شراکت بھی ہوگی۔

یہ منصوبہ ہر تین سال میں مکمل ہو گا، منصوبہ کے تحت این۔55 کے شکارپور۔ راجن پور سیکشن پر دو اضافی لینز کی تعمیر کے علاوہ پہلے سے موجود دو لینز کی توسیع اور بحالی کی جائے گی۔

221.950 کلو میٹر طویل سڑک کو 4 لینز کا بنایا جائے گا جس میں ہر لین کی چوڑائی 3.65 میٹرہو گی۔

این ایچ اے اس منصوبہ پر عملدرآمد کی ذمہ دارہو گی جس کے لیے رواں مالی سال 2020-21 کے وفاقی پبلک سیکٹر ڈیوپلمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اسی طرح ایکنک نے این۔55 کے ڈی جی خان۔ راجن پور سیکشن پر 121.50 کلو میٹر طویل 4 لینز شاہراہ کی تعمیر کی منظوری دی جس پر مجموعی اخراجات کا تخمینہ 33 ارن 17 کروڑ روپے ہے جس میں سے 28 ارب 52 کروڑ روپے اے ڈی بی فراہم کرے گا۔

منصوبہ تین سال میں مکمل ہو گا جو راجن پور سے شروع ہو گا اور فاضل پور، محمد پور دیوان، جام پوراور ڈیرہ غازی خان تک تعمیر ہو گا، مالی سال 2020-21 میں اس کے لیے 50 کروڑ روپے مختص ہیں۔

ایکنک نے ڈی جی خان۔ڈی آئی خان کے این۔55 (208.19 کلو میٹر) طویل شاہراہ کے منصوبہ کی بھی منظوری دی جس پر اخراجات کا مجموعی تخمینہ 52 ارب 27 کروڑ روپے ہے اور اے ڈی بی اس کے لیے 44 ارب 95 کروڑ روپے فراہم کرے گا۔

این ایچ اے کے تحت یہ منصوبہ بھی تین سال میں مکمل کیا جائے گا جو ڈی جی خان سے شروع ہو کر شاہ صدر دین، کالا، شاہدان لنڈ، تونسہ، بٹی قیصرانی، ماہرہ، پرووا اور ڈی آئی خان کو ملائے گا، مالی سال 2020-21 میں اس کیلئے 50 کروڑ روپے پی ایس ڈی پی کے تحت رکھے گئے ہیں۔

اجلاس کے دوران ایگزیکٹو کمیٹی نے 79.890 کلو میٹر طویل جھل جا۔بیلا روڈ کی بحالی اور اپ گریڈیشن کی بھی منظوری دی اس منصوبہ کو بغیر کسی غیر ملکی مالی معاونت کے 11 ارن 11 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔

این ایچ اے کی زیر نگرانی یہ منصوبہ تین سال میں مکمل ہو گا۔ جھل جا سے شروع ہونے والی سڑک اوگانی، سپائی سنگ، چوکی سے ہوتی ہوئی بیلا تک جائے گی۔

اس کی تکمیل سے سفری دورانیہ کو کم کرنے کے علاوہ تجارتی سامان کی جلد ترسیل میں بھی مدد ملے گی۔

ایکنک نے 21 ارب 33 کروڑ روپے کی لاگت کے پشاور نادرن بائی پاس منصوبہ کی بھی منظوری دی۔

32.2 کلو میٹر طویل منصوبے میں چار لینز کے بائی پاس کی تعمیر کے ساتھ دونوں اطراف سروس روڈز بھی تعمیر کی جائیں گی۔

اس منصوبہ کو تین پیکیجز میں تقسیم کیا گیا ہے، سیکشن ون میں ایم ون چارسدہ روڈ انٹرچینج کی لمبائی 7.60 کلو میٹر، سیکشن ٹو میں چارسدہ، وارسک روڈ انٹرچینج کی لمبائی 11.6 کلو میٹر، سیکشن تھری میں تھری اے اور بی کے تحت وارسک روڈ تا ناصر باغ تک 5.50 کلو میٹراور تخت بھائی تک 7.50 کلو میٹر سڑک تعمیر کی جائے گی۔

ایکنک نے کے پی کے ہائیڈروپاور اینڈ قابل تجدید توانائی کے ترقیاتی پروگرام کے تحت ضلع صوابی میں عالمی بینک کے اشتراک سے 157 میگاواٹ بیدیاں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بھی منظوری دی ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 79 ارب 37 کروڑ روپے، غیر ملکی قرضوں کی مد میں اس منصوبے کے لیے 57 ارب 33 کروڑ روپے حاصل کیے جائیں گے۔

ایکنک نے ہدایت کی کہ آئی پی پی کے قوانین اور نیپرا کے قواعد و ضوابط کے تحت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

منصوبے کا فنانسر بجلی کی کم از کم قیمت کو یقینی بنائے گا۔

مزید برآں 88 میگاواٹ جبرال کالام ہائیڈرو پاور منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی جس پر بشمول ایف ای سی مجموعی طورپر 36 ارب 43 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

اس میں 8 ارب 81 کروڑ روپے ایف ای سی بھی شامل ہے اور ایکنک نے ہدایت کی ہے کہ آئی پی پی اور نیپرا قوانین و ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

ایکنک کی منظوری کے بعد اسپانسر چھ ماہ کے اندر منصوبہ کے حوالہ سے سی ڈی ڈبلیو پی کو آگاہ کرے گا۔

ایکنک نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے اسٹیج ون کے تحت داسو تا اسلام آباد براستہ مانسہرہ 2 ہزار 160 میگاواٹ بجلی کی ترسیل کے منصوبہ کی بھی منظوری دی ہے جس پر مجموعی طورپر 132 ارب 24 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اور اس میں زرمبادلہ کی مد میں 112ارب 22 کروڑ روپے فنانس ہوں گے۔

یہ منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہو گا اور اس کی فنانسنگ عالمی بینک کرے گا، منصوبہ کا مقصد داسو سے 2160 میگاواٹ بجلی مانسہرہ کے راستے اسلام آباد لا کر متعلقہ ڈسکوزکو فراہم کرنا ہے۔