- الإعلانات -

خواتین پر تشدد پر قابو پانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، وزیر خارجہ

اقوام متحدہ: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان خواتین پر تشدد کو روکنے کے لیے ’قانون سازی کے اقدامات‘ کر رہا ہے۔

خواتین سے متعلق عالمی کانفرنس کی 25 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق قومی ایکشن پلان میں اس کی اولین ترجیحی شعبوں میں سے ایک ’خواتین کا تحفظ‘ ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’قانون سازی کے اقدامات کے ذریعے ہم خواتین کے خلاف تشدد، گھریلو زیادتی، ہراساں کرنا، سماجی اور املاکی حقوق کے تحفظ کے امور کو مستقل طور پر حل کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’خواتین کو مفت قانونی مشورے دینے کے لیے 24 گھنٹے ہیلپ لائن (1099) قائم کردی گئی ہے‘۔

یکم اکتوبر 2020 کو بیجنگ اعلامیہ اور پلیٹ فارم فار ایکشن کی 25 ویں برسی منائی گئی جسے 189 ممالک نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔

اس اعلامیے میں خواتین کو با اختیار بنانے کا ایجنڈا پیش کیا گیا ہے اور یہ صنفی مساوات سے متعلق عالمی پالیسی کے بارے میں ایک اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کے 75 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتیرس اور دیگر عالمی رہنماؤں نے اعتراف کیا تھا کہ ابھی تک یہ بااختیار نہیں ہوئی ہے۔

1995 میں جب بیجنگ میں اس اعلامیہ پر دستخط ہوئے تھے تو اس وقت 12 خواتین سربراہان مملکت/حکومت تھیں اور آج 193 ممالک میں صرف 22 ہیں۔

ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو زندگی بھر کی آمدنی میں برابری حاصل کرنے میں 150 سال لگ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے ہر جگہ لوگوں کو خواتین کے لیے مساوات رکھنے والی قوتوں پر ’دباو ڈالنے‘ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بنیادی طور پر اختیارات کا سوال ہے۔

اقوام متحدہ کی خواتین کی انتظامیہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فومزیل میلمبو نے ورچوئل کانفرنس میں شامل رہنماؤں کو بتایا کہ ’ہمیں کام ابھی شروع کرنا ہوگا، ہمیں 1995 سے اب تک ہونے والے معمولی فوائد پر قبضہ کرنے اور تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے ورچوئل میٹنگ میں بتایا کہ جن ریاستوں میں خواتین رہنما ہیں ’وہی ریاستیں کامیاب بھی ہیں، معاشی اور معاشرتی دونوں اعتبار سے‘۔

انہوں نے کہا کہ جن ریاستوں نے اپنے تنازعات کو پُر امن طریقے سے حل کیا ہے ان میں اکثر ایسی بھی ہیں جہاں ذمہ داری نبھانے والوں میں خواتین شامل ہیں۔