- الإعلانات -

خادم رضوی پر مقدمہ درج کر دیا گیا۔۔۔۔ وجہ منظر عام پر آگئی

فیصل آباد: تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ خادم رضوی اور دیگر چھ افراد پر اتوار کے روز چک 124-جی بی میں عوامی اجتماع منعقد کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے فیصل آباد میں مولانا خادم حسین رضوی کے داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے گزشتہ اگست میں ایک حکم نامہ جاری کیا تھا۔

جڑانوالہ صدر کے انسپکٹر ریاض الدین نے درخواست جمع کرواتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی کانسٹیبل شاہد علی نے انہیں اطلاع دی کہ مولانا رضوی سید کفایت شاہ بخاری کے سالانہ عرس کے سلسلے میں چک 124-جی بی آرہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ منتظم آصف اللہ کو فیصل آباد میں مولانا رضوی کے داخلے پر پابندی سے متعلق نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس چک 58 جی بی پل پر پہنچی جہاں انہوں نے 21 اگست کو جاری کردہ ڈپٹی کمشنر کا حکم دکھا کر کارواں کو روکنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مزاحمت کی اور چک 124-جی بی کی طرف مارچ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود مولانا خادم رضوی نے ایک اجتماع سے خطاب کیا، پولیس نے اس کے اور دیگر 6 افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 186، 188 اور 353 اور پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر 1960 کی دفعہ 13 کے تحت مقدمہ درج کیا۔

واضح رہے کہ سال 2018 میں توہین مذہب کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پُر تشدد مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

بعدازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا، اس دوران خادم حسین رضوی کو 23 نومبر 2018 کو 30 روزہ حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا جس کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت نے رواں سال جنوری میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔