- الإعلانات -

لڑکی کو تھپڑ مارنا, اے ایس آئی کو مہنگا پڑ گیا

گوجرانوالہ: صدر پولیس نے جی ٹی روڈ کے نزدیک جی منگولیا پارک میں ایک ’فرار ہونے والی‘ لڑکی کو مبینہ طور پر تھپڑ مارنے پر اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کرلیا۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تاہم واقعے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اے ایس آئی کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

مذکورہ مقدمہ اسٹیشن ہاؤس افسر(ایس ایچ او) فیصل معین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

جنہوں نے کہا کہ وہ دیگر پولیس اہلکاروں کےساتھ چن دا قلعہ بائی پاس کے نزدیک موجود تھے کہ انہیں اطلاع ملی کے بڑی تعداد لوگ منگولیا پارک پر جمع ہورہے ہیں۔

ایس ایچ او کے مطابق انہیں معلوم ہوا کہ اے ایس آئی علی اکبر سد پارہ نے تنزیلہ بی بی کو اس وقت تھپڑ مارا کہ جب وہ اپنی بہن معین بی بی کو گھر جانے سے انکار کررہی تھی۔

انہوں نے کہا اے ایس آئی نے اپنے اختایار کا غلط استعمال کرتے ہوئے ردِ عمل دیا جس پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں صدر پولیس لاک اپ میں قید کردیا۔

بعدازاں پولیس نے گرفتار اہلکار کو عدالت میں پیش کیا جہاں اسے ضمانت پر رہائی دے دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس افسر سے رپورٹ طلب کرلی۔