- الإعلانات -

آج ملک میں جو سیاسی کشمکش جاری ہے وہ خوش آئند نہیں ، ایس کے نیازی

سٹاک مارکیٹ بہتر ہونا ایک مثبت اشارہ ہے ، لوگ ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ، سچی بات میں گفتگو

نیب قوانین میں کچھ ترامیم ضروری ہیں ، اس کو ایسا ادارہ بنایا جائے جس پر عوام کا اعتماد ہو ، ماہر قانون شاہ خاور

گفتگو کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں اب سڑک پر آنے کے علاوہ کوئی حل نہیں ، پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مصدق ملک کی گفتگو

اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے کہا کہ چیئرمین نیب میرے دوست ہیں ، وہ ایماندار آدمی بھی ہیں ، لیکن ماضی کے جھمیلوں میں الجھ کر حال پر توجہ نہیں دے رہے اور جو چیزیں ماضی سے کھنگالی جا رہی ہیں ان سے کچھ برآمد بھی نہیں ہو رہا ، صرف تاجروں اور ہاءوسنگ سوساءٹیوں سے کچھ حاصل ہو رہا ہے لیکن بڑے لوگوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ، روزنیوزکے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کرپشن کا خاتمہ تو درکنار البتہ اس کا ریٹ اور بڑھ گیا ہے ، جہاں تک نیب آرڈیننس میں ترمیم کا مسئلہ ہے تو عمران خان کو بھی چاہئے تھا کہ اس میں ضروری ترامیم کرالیتے وہ بھی خاموش ہیں کیونکہ نا کا کام چل رہا ہے ، مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں یقین نہیں کرتا کیونکہ مولانا صاحب صرف میرے پروگراموں میں آتے رہے ہیں اور انہوں نے باقاعدہ کہا ہے کہ وہ اداروں پر بھر پور اعتماد کرتے ہیں ، ان میں صلاحتیں ہیں ان سے بات چیف کرسکتے ہیں ، ایس کے نیازی نے کہا کہ حکومت زمینی حقائق بارے آگاہی حاصل کرے ، ملک میں جو سیاسی کشمکش چھڑ گئی ہے وہ بہتر نہیں ، نواز شریف بھی ہمارے لئے قابل احترام ہیں لیکن انہیں اداروں کیخلاف گفتگو نہیں کرنی چاہئے تھی، گفتگو کرنے کیلئے جو گنجائش ختم ہو گئی ہے وہ فکر کی بات ہے ، اس وقت بہت سے حساس مسائل چل رہے ہیں ، ایس کے نیازی نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور رانا تنویر نے بھی میرے پروگرام میں آکر ماضی اور موجودہ انتخابات پر تحفظات کا اظہار کیا، اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا بہتر ہونا خوش آئند ہے لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ، آرٹیفشل طریقے سے ہی سہی سٹاک مارکیٹ کو اٹھانا چاہئے ، اس کا بین الاقوامی دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے ، ماہر قانون شاہ خاور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نیب کے معاملات کو جانتا ہوں لیکن افسوس ہے کہ ہمارے احتساب کے حوالے سے جو بھی قوانین بنے ان پر عوام کو اعتماد حاصل نہیں ،1997 میں جب احتساب ایکٹ بنا اس وقت سربراہ سینیٹر سیف الرحمان تھے ، پھر یہ ادارہ سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو گیا، مشرف کے دور میں احتساب آرڈیننس آیا لیکن بعد میں یہ بھی سیاست کی نظرہو گیا، میں کہتا ہوں کے احتساب قوانین میں مناسب ترامیم ہونا چاہئے ، اس پر نہ ن لیگ نے توجہ دی اور نہ ہی پیپلز پارٹی نے آج ہو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے یہ غلطی کی ، موجودہ حکومت کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آرہے ، اس حوالے سے ایسا ادارہ بنانا چاہئے جس پر عوام اعتماد کرے ، ن لیگ کے رہنما مصدق ملک نے کہاکہ آج حکومت اور اداروں سے بات کرنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے ، کوئی بات کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہم بات کرتے ہیں تو الزام عائد کر دیا جاتا ہے کہ این آر او مانگ رہے ہیں ، اس کے بعد صرف سڑک ہی رہ جاتی ہے ، نیازی صاحب آپ بتائیں ایسا کون سا پلیٹ فارم ہے جہاں جا کر بات کی جائے ، اب روش تبدیل کرنا ہو گی، آئین اور قانون سے ماورا قانون کو ختم کرنا ہو گا، رولز آف گیم تبدیل کرنے ہونگے ، جمہوری راستے مکمل طور پر مخدوش ہو چکے ہیں ۔