- الإعلانات -

آئندہ 2سال تک پاکستان میں۔۔۔!! عالمی بنک نے بڑا عندیہ دے دیا

اسلام آباد: عالمی بینک نے جنوبی ایشیا میں بدترین کساد بازاری کی پیش گوئی کرتے ہوئے کووڈ۔19 کے منفی اثرات کی وجہ سے خاموش اور غیر یقینی معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ آئندہ دو سالوں میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا عندیہ دیا ہے۔

سال میں دو مرتبہ شائع ہونے والی بینک کی جنوبی ایشیا اکنامک فوکس رپورٹ کے تازہ شمارے میں کہا گیا کہ پاکستان میں اقتصادی شرح نمو مالی سال 2021 میں کم ہونے کی توقع ہے اور 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جہاں اس سے قبل سالی سال 2019 تین سال کے دوران سالانہ اوسط 4فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو امکان سے کم رہنے کا امکان ہے جو مالی سال 2021 اور 2022 میں اوسطاً 1.3 فیصد رہے گی۔‎

اس نے کہا کہ یہ اندازہ انتہائی غیریقینی ہے اور اس کی پیش گوئی انفیکشن کے بڑھنے یا وائرس کی لہروں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے جس سے مزید وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اس رپورٹ کے اجرا سے قبل ایشیا کے خطے کے لیے عالمی بینک کے نائب صدر ہارٹویگ شیفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کووڈ-19 کے دوران جنوبی ایشیائی معیشتیں توقع سے زیادہ تباہی سے دوچار ہوئیں جو سب سے زیادہ چھوٹے کاروباروں اور غیر رسمی کام کرنے والوں کے لئے بدترین ثابت ہوا جو اچانک اپنی ملازمت اور اجرت سے محروم ہو گئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بینک نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی غربت کے اعداد شائع نہیں کیے لیکن خطے کے دوسرے ممالک کی طرح غربت کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے پاکستان کی معیشت شدید متاثر ہوئی، اقتصادی سرگرمیاں سکڑ گئیں اور غربت میں مالی سال 20 میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ مالیاتی اور مالی پالیسیوں میں سختی لائی گئی اور اس کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔

توقع کی جارہی ہے کہ نمو بتدریج ہونے کے امکان ہے لیکن غیر یقینی صورتحال اور طلب کے دباؤ کے لیے کیے گئے اقدامات کی بحالی کی وجہ سے یہ کم رہنے کا امکان ہے، انفیکشن کے ممکنہ طور پر دوبارہ پھیلاؤ، ٹڈی دل کی وجہ سے فصلوں کو وسیع پیمانے پر پہنچنے والے نقصان اور مون سون بارشوں کی بارش کی وجہ سے بڑے خطرات لاحق ہیں۔

مجموعی طور پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا اپنی بدترین کساد بازاری کا شکار ہے کیونکہ اس خطے کی معیشتوں پر کووڈ 19 کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں، غیر رسمی کارکنوں کو غیر متناسب اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لاکھوں جنوبی ایشیائی باشندوں کو انتہائی غربت کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں خطے میں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے معاشی تنزلی کی پیش گوئی کی گئی ہے کیونکہ گزشتہ پانچ سالوں میں خطے میں سالانہ 6فیصد شرح نمو کے بعد 2020 میں 7.7فیصد تک سکڑنے کا امکان ہے۔

شیفر نے کہا کہ فوری امداد کی فراہمی سے وبائی امراض کے اثرات کم ہوگئے ہیں لیکن حکومتوں کو اسمارٹ پالیسیوں کے ذریعے اپنے غیر رسمی شعبوں کی گہرائیوں سے پائے جانے والے خطرات کو دور کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے وسائل کو دانشمندی سے مختص کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 19 میں 1.9فیصد سے کم ہو کر 2020 میں 1.5فیصد رہنے کا امکان ہے جو کئی دہائیوں کے بعد بدترین کمی ہے جو کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور وائرس سے قبل سخت مانیٹری اور مالیاتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ گھریلو معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ کورونا کے فعال کیسز میں کمی کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی لیکن پاکستان کی جلد معاشی بہتری کے امکانات دب کر رہ گئے ہیں، وبائی مرض کے دوبارہ پھیلاؤ اور ویکسین کی دستیابی پر چھائی غیر یقینی صورتحال، غیر عدم توازن کو روکنے کے لیے مانگ میں کمی کے ساتھ ساتھ غیرموزوں بیرونی حالات صورتحال کی مںظر کشی کرتے ہیں۔

توقع ہے کہ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 21 اور مالی سال 22 میں جی ڈی پی کا اوسطاً 1.5 فیصد ہوجائے گا، مقامی سطح پر طلب اور عالمی حالات میں بہتری آنے کے ساتھ درآمدات اور برآمدات میں نتدریج بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔

مالی خسارہ مالی سال 22 میں مالی استحکام کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور سنجیدہ ساختی اصلاحات کی مدد سے مضبوط آمدنی کو دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ 7.4 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق معقول سود کی ادائیگی، بڑھتی ہوئی تنخواہ اور پنشن بل اور توانائی کے شعبے میں حکومت کے ذریعے سرکاری کاروباری اداروں کے ’گارنٹی والے قرض‘ کی وجہ سے اخراجات کافی حد تک برقرار رہیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مستقبل قریب میں شرح نمو میں کمی کے پیش نظر غربت کی صورتحال مزید خراب ہونے کی توقع ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمزور طبقے میں خدمات کے شعبے میں ملازمتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے اور سروسز کی کمزور شرح نمو ممکنہ طور پر وبا کی وجہ سے بے انتہا غربت میں کمی کے سلسلے میں غیرموثر ثابت ہو گی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ معاشی منظر نامے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ممکنہ طور پر وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے انفیکشن کا پھیلا ہے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر نیا لاک ڈاؤن نافذ کیا ج سکتا ہے اور ڈھانچے میں اصلاحات پر عملدرمد التوا کا شکار ہو جائے گا۔

ٹڈی دل کے حملوں اور مون سون کی بے انتہا بارش سے فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے، خوراک کے عدم تحفظ اور افراط زر کے دباؤ کے ساتھ ساتھ بنیادی طور پر زراعت پر انحصار کرنے والے گھرانوں کے معاش پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

آخر کار غیر روایتی عطیہ دہندگان اور بین الاقوامی مالی اعانت کے سخت حالات سے زیادہ دوطرفہ قرضوں میں اضافے میں مشکلات کی وجہ سے بیرونی مالی اعانت کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بینک نے نوٹ کیا کہ کمزور سرگرمی کے باوجود پاکستان میں خوراک کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور روپیے کی وجہ سے صارفین کے لیے مہنگائی کی شرح مالی سال 19 میں اوسطاً 6.8فیصد سے بڑھ کر مالی سال 20 میں اوسطاً 10.7 فیصد ہو گئی۔

افراط زر کے دباؤ کے ساتھ پالیسی کی شرح جولائی 2019 سے فروری 2020 تک 13.25fiSd پر رکھی گئی تھی لیکن اس کے بعد کم ہونے والی سرگرمیوں کی معاونت کے لیے مالی سال 20 کے بقیہ حصے کے لیے کم کر کے 7فیصد کردی گئی تھی۔