- الإعلانات -

کورونا کے دوبارہ پھیلاؤ کا خطرہ، پنجاب کے 36 اضلاع میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

لاہور: مثبت کیسز کی تعداد میں اچانک اضافے کے بعد کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خوف سے حکومت پنجاب نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے صوبے کے تمام 36 اضلاع میں ’مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ نافذ کردیا ہے۔

کیسز میں خاص طور پر پنجاب میں تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے اور عوامی مقامات، سرکاری دفاتر اور کاروباری مقامات پر کووڈ 19 کے رہنما اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد اضافے کا مشاہدہ کیا گیا۔

36 اضلاع میں سے صورتحال خصوصاً لاہوریہ، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور گجرات میں زیادہ پریشان کن ہے جاں کووڈ-19 کے سب سے زیادہ مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔تحریر جاری ہے‎

ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے صوبے کے تمام 36 اضلاع میں 856 ‘مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن’ نافذ کردیے ہیں جس میں 7ہزار 295 شہریوں کو ان کی رہائش گاہوں تک محدود کردیا گیا ہے، لاک ڈاؤن کی تجویز ان اضلاع میں کووڈ19 کے 1ہزار 235 مثبت کیسز کی نشاندہی کے بعد دی گئی تھی۔

لاہور میں 520 مریضوں کے ساتھ دو مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز دی گئی اور راولپنڈی میں 177 سے زیادہ مثبت کیسز کے بعد 123 مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن سامنے آئے۔

اسی طرح گوجرانوالہ میں 66 کوڈ 19 مریضوں کے لیے 42، فیصل آباد میں 64 مریضوں کے لیے 42، گجرات میں 64 مریضوں کے لیے 42، حافظ آباد میں 66 مریضوں کے لیے 40، جھنگ میں 46 مریضوں کے لیے 40، ملتان میں 47 مریضوں کے لیے 26 ایسے مائیکر لاک ڈاؤن کی تجویز پیش کی گئی، ننکانہ صاحب میں 32 مریضوں کے لیے 23، منڈی بہاؤالدین میں 22 مریضوں کے لیے 12، ساہیوال میں 19 مریضوں کے لیے 12، سرگودھا میں 32 مریضوں کے لیے 24، سیالکوٹ میں 23 مریضوں کے لیے 15، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 19 مریضوں کے لیے 11 اور کووڈ 19 کے 32 مریضوں کے لیے بہاولپور میں 12 مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیے ہیں۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ کچھ دن قبل نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں یہ اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے تھے جہاں عہدیداروں نے پنجاب میں بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف صحت کی سہولیات کے طبی ماہرین نے بھی کووڈ 19 کے بڑھتے ہوئے معاملات کے بارے میں سرکاری حکام کو آگاہ کیا اور دوسری لہر سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا، ماہرین کا موقف تھا کہ جزوی طور پر لاک ڈاؤن ڈاؤن کوئی حل نہیں ہے اور انہوں نے خط اور روح کے مطابق رہنما اصولوں پر عمل درآمد میں حکومت کی رٹ کو یقینی بنانے اور اس بیماری کے حقیقی اثرات کا تجزیہ کرنے کی جانچ کی صلاحیت میں اضافے کی تجویز پیش کی۔

دریں اثنا پرائمری اور ثانوی محکمہ صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے کووڈ19 کے 115 نئے کیسز رپورٹ کیے جن کی وبا پھیلنے کے بعد سے اب تک یہ تعداد 1لاکھ 148 ہو گئی ہے۔

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اسی عرصے میں مزید دو افراد کی موت کے بعد پنجاب میں اموات کی تعداد 2 ہزار 242 ہو گئی۔

محکمہ نے دعویٰ کیا کہ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں 10ہزار 66 ٹیسٹ کیے گئے۔

صوبے میں سب سے زیادہ 50ہزار 217 کیسز لاہور میں رپورٹ ہوئے جہاں وبائی امراض پھیلنے کے بعد اموات کی تعداد 868 ہو گئی ہے۔

دوسری جانب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی ریلیوں اور دیگر عوامی اجتماعات اس بیماری سے کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اب کراچی میں لاک ڈاون مسلط کرنے کی طرف گامزن ہے لیکن بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو پنجاب میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

دوسری طرف حکومت پنجاب عوامی اجتماعات، احتجاجی ریلیوں یا عرس کے لیے نئے ایس او پیز تیار کر رہی ہے اور متعلقہ ضلعی ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کر رہی ہے کہ وہ اجتماعات کے منتظمین سے ان کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

اس سے قبل وزیر اعلیٰ ہاؤس میں کورونا وائرس سے متعلق کابینہ کی کمیٹی میں کورونا وائرس کی بحالی پر قابو پانے میں ناکامی پر تبادلہ خیال کیا گیا، سیکریٹری پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے سندھ میں مثبت معاملات میں اضافے کے بعد حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ اگر لوگ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کریں گے تو زیادہ خطرے والے اضلاع اور علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔

اجلاس میں وزیر قانون بشارت راجہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے بھر میں عوامی اجتماعات میں کسی قسم کے احتیاطی اقدامات یعنی ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کا مشاہدہ نہیں کیا گیا، انہوں نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ نئے ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

راجہ بشارت نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ شادی ہالوں میں بھی ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی جارہی تھیں جو وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا کررہی تھی، انہوں نے صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ شادی ہالوں، تعلیمی اداروں اور تمام عوامی مقامات پر ایس او پیز کے نفاذ کو یقینی بنائیں اور میڈیا میں بڑے پیمانے پر عوامی بیداری مہم بھی چلائیں۔

وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔