- الإعلانات -

شہباز تاتلا قتل، سابق ایس ایس پی، دیگر دو ملزمان پر فرد جرم عائد

لاہور: سیشن عدالت نے سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شہباز تاتلا کے قتل کے مقدمے میں سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس مفخر عدیل اور دو دیگر افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عدالت میں فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ارشد جاوید نے استغاثہ کو ہدایت کی کہ وہ 12 اکتوبر کو اپنے گواہ پیش کریں۔

نصیرآباد پولیس نے مقدمہ چالان پہلے ہی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ شخص مفخر عدیل نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے وکیل دوست شہباز تاتلا کی لاش کو تیزاب سے بھرے ہوئے پلاسٹک کے ڈرم میں ڈال دیا تھا، بعد میں اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اپنے جرم کے کسی ثبوت کو ختم کرنے کے لیے کرئے کے گھر میں موجود جائے وقوعہ کو دھو دیا تھا۔

مفخر عدیل اور تاتلا دونوں 7 فروری 2020 کو لاپتہ ہوگئے تھے، پولیس نے ابتدائی طور پر دونوں کے مشترکہ دوست اسد بھٹی کو گرفتار کیا تھا جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ یہ جرم کس طرح ہوا ہے، تیسرا ملزم عرفان علی اس دکان کا مالک تھا جہاں سے اس جرم میں استعمال ہونے والا تیزاب خریدا گیا تھا۔

سابق پولیس افسر نے اپنی پراسرار گمشدگی کے ایک ماہ بعد پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

مفخر عدیل کے وکیل نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اس کے مؤکل نے کوئی اعتراف جرم نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ پولیس یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت اکٹھا کرنے میں ناکام رہی ہے کہ سابق قانونی افسر کی موت ہو گئی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس حراست میں ایک مشتبہ شخص کے بیان کی قانون کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ عدالتوں نے صرف شواہد کی بنا پر سزا سنائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ شہباز تاتلا کو ان کے دوست مفخر عدیل نے قتل کردیا تھا اور پھر خود ایک ماہ کے لیے لاپتہ ہو گئے تھے۔ شریک ملزم اسد بھٹی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا تھا کہ 7فروری کی رات شہباز کو کرائے کے مکان پر لانے کے بعد جوس میں نشہ آور دوا ملا کر دی گئی اور شہباز سے دریافت کیا کہ کیا شہباز کا اس کی سابقہ بیوی اسما سے افیئر چل رہا ہے۔

اسد نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انکار کے بعد شہباز نے تسلیم کر لیا جس پر مفخر اس کے ہونٹوں اور ہاتھوں کو ٹیپ سے باندھنے کے بعد اس کے منہ پر تکیہ رکھ کر بیٹھ گیا اور دم گھٹنے سے شہباز تاتلا کی موت واقع ہو گئی۔

پولیس کے چالان کے مطابق ملزم نے لاش کو تیزاب میں ڈال دیا اور اس بات کی ملزم نے تصدیق بھی کردی ہے۔

قتل کی واردات کے بعد ملزم مفخر کی بیوی نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ نصیرآباد تھانے میں لکھوائی تھی البتہ گمشدگی کے ایک ماہ بعد انہوں نے پولیس کے سامنے سرینڈر کر دیا تھا۔

مفخر عدیل لاہور میں پنجاب کے کانسٹیبلری بٹالین کمانڈر کے فرائض انجام دے رہے تھے اور ماضی میں وہ لاہور میں ایس پی سول لائنز ڈویژن، ایس پی سیکیورٹی (لاہور ہائی کورٹ) اور ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی رہ چکے ہیں۔