- الإعلانات -

سپریم کورٹ نے دوبارہ مردم شماری سے متعلق ایم کیو ایم پاکستان کی درخواست نمٹا دی

سپریم کورٹ نے کراچی میں دوبارہ مردم شماری سے متعلق ایم کیو ایم پاکستان کی درخواست نمٹا دی تھی اور اب ایم کیو ایم اس معاملے پر نئی درخواست فائل کرے گی۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایم کیو ایم پاکستان کی کراچی میں دوبارہ مردم شماری کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رہنما اور سینئر سیاستدان فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے کہا تھا جھرلو مردم شماری ہوگی، وفاقی حکومت نے اب تک آفیشل گزٹ میں مردم شماری کے نتائج نہیں بتائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت میں اتنی جرات نہیں کہ کراچی کی مردم شماری کا ریکارڈ دکھا سکے، کراچی کی آبادی کو پہلے کی مردم شماری میں بھی کم کر کے دکھایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں کی نمائندگی زیادہ ہونی چاہیے تھی، وزیر اعلیٰ شہری علاقے سے ہونا چاہیے تھا لیکن ہمیشہ سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی کم دکھائی جاتی ہے اور انتخابی دھاندلی کا آغاز مردم شماری سے کیا جاتا ہے۔

ایم کیو ایم کے وکیل صلاح الدین نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے ایم کیوایم کی درخواست پر اعتراض کر دیا تھا اور مردم شماری اعدادوشمار سے متعلق درخواست میں ترمیم کر دی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ نئی درخواست دائر کریں، مردم شماری کے بعد اب کافی وقت گزر چکا ہے۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایک نئی درخواست دائر کریں جو واضح ہو۔

ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ کراچی کے 13فیصد بلاکس میں ووٹرز زیادہ مگر آبادی کم ہے۔

دوران سماعت فاروق ستار نے کہا کہ میں عدالت سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ آپ کے وکیل نے بات کر لی ہے جس پر وکیل صلاح الدین نے کہا کہ فاروق ستار اب ایم کیو ایم کے نہیں ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے کا کہ صرف نئی درخواست دائر کرنے کا کہا ہے اور مردم شماری پر اعتراضات نئی درخواست میں اٹھائے جائیں، مسئلہ صرف آپ کا نہیں دیگر صوبوں کا بھی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ عوام کیساتھ مسلسل نانصافی کی جارہی ہے اور عوام کو حق حکمرانی سے محروم کیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل سے مردم شماری ڈیٹا کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا تھا اور اپنی درخواست میں مردم شماری کے عمل میں ہونے والی غلطیوں کی نشاندہی کی تھی۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ مردم شماری کا عمل جیسا بھی تھا اب مکمل ہو چکا ہے۔

ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ نئی درخواست دائر کریں گے جس کے بعد سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی اور سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہوں، سپریم کورٹ نے کہا کہ مردم شماری ہو چکی ہے لہٰذا نئی درخواست دائر کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے نقائص ثبوت کیساتھ پیش کیے تھے، مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم کر کے دکھائی گئی اور ہم نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ آبادی کم بتائی جارہی ہے۔

فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات اور 2023 کے الیکشن سے قبل مردم شماری کرائی جائے، کراچی کا بارشوں میں ڈوبنے کیوجہ بھی غلط مردم شماری ہے کیونکہ کراچی کو پورے فنڈز ہی نہیں دیے جاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے اور اگر کراچی کو قومی دھارے میں واپس لانا ہے تو اس سے انصاف ہونا چاہیے۔