- الإعلانات -

مودی کا دورحکومت خطے کے لئے خطرناک ترین

بھارت میں مودی دور حکومت میں بغاوت کے مقدمات میں اضافے کا رجحان ہے ۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق، بغاوت کے مقدمات میں 165فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ جبکہ غیر قانونی سرگرمی (تحفظ) ایکٹ (یوایپا) کے تحت بھی 33 فیصد زائد مقدمات درج کیے گئے ۔ بھارت میں حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف ان قوانین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ سرکاری اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ 2019 کے دوران 93 بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 2016 میں یہ تعداد 35 تھی ۔ اسی طرح غیر قانونی سرگرمی(تحفظ)ایکٹ کے تحت بھی 2019 میں 1226 مقدمات درج کیے گئے ۔ ان قوانین پر بھارت بھر میں شدید تنقید کے باوجود حکومت کسی قسم کی تبدیلی کرتی نظر نہیں آرہی ۔ حالانکہ ان قوانین کے ذریعے اختلاف رائے کو دبایا جارہا ہے اور مستقبل قریب میں یہ رجحان ختم ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ گزشتہ دنوں امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھارت کو عالمی نمبرون دہشت گرد قرار دیدیا تھا ۔ بھارت کا دہشت گردی میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں بھارت دراصل طالبان کے نظریات کو فروغ دینے میں ایک جڑ اور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہندو انتہا پسندی کو فروغ دینے والے توسیع پسندانہ مقاصد کے تحت بھارت خطے اور اقوام عالم کے امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔ گزشتہ سال پانچ اگست سے اب تک بھارت مقبوضہ وادی میں جس ننگی وحشت و بربریت کا مظاہرہ کر چکا ہے وہ بھی اقوام عالم میں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہا ۔ اقوام متحدہ کو اب اس حوالے سے بہرصورت موثر کردار ادا کرنا اور بھارتی دہشت گردی کے ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں اس پر عالمی اقتصادی پابندیاں لگوانا ہوں گی بصورت دیگر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہونے والا ایک خواب ہی بنی رہے گی ۔