- الإعلانات -

اپوزیشن کی تحریک اورحکومت کامدبرانہ فیصلہ

گزشتہ عام انتخابات میں عوام نے سٹیٹس کو کو توڑتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا اوریقینا عمران خان کو موروثی سیاست سے ملک و قوم کو چھٹکارا دلانے اور ریاست مدینہ کی شکل میں نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے منشور کے تحت عوام میں بے حد پذیرائی ملی ۔ بلاشبہ وزیراعظم عمران خان اس وقت اپنے منشور کے مطابق ہی حکومتی انتظامی معاملات چلا رہے ہیں جو اپنے کرپشن فری ایجنڈے کی بنیاد پر کسی چور ڈاکو کو نہ چھوڑنے اور کسی کو این ;200;ر او نہ دینے کے عزم پر کاربند ہیں چنانچہ سابق حکمران ملکی دولت کی لوٹ مار کے مقدمات کاسامنا کررہے ہیں ۔ ایسے ہی حالات میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے بیرون ملک بیٹھ کر حکومت کیخلاف اپنے بیانیہ کو ;200;گے بڑھانے کیلئے محاذ;200;رائی کی سیاست میں جارحانہ طرز عمل اختیار کیاہے ۔ انہوں نے (ن) لیگ کے اجلاسوں میں ویڈیو لنک خطاب کرکے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا عندیہ دیا تو حکومت کی جانب سے مثبت حکمت عملی دیکھنے میں آئی ہے جس میں حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں اور ریلیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی اور اپوزیشن ملک بھر میں جہاں جلسے کرے اجازت ہوگی تاہم اپوزیشن کو جلسوں میں کورونا ایس او پیز کا پابند بنایا جائے گاجبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ پرامن احتجاج اور جلسے کرنا اپوزیشن کا حق ہے احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،اپوزیشن کی تحریک عوام نہیں بلکہ سیاسی ایلیٹ کے مفادات کے تحفظ کےلئے ہے ،اپوزیشن حکومت پر دباءو ڈال کر کرپشن کیسزسے چھٹکارا چاہتی ہے،عوام کو سیاستدانوں کی کرپشن بچاءو تحریک میں کوئی دلچسپی نہیں ،یہ خودبے نقاب ہوں گے ،ضلعی انتظامیہ جلسوں میں کورونا وائرس کے خلاف ایس اوپیز پر عمل درآمد یقینی بنائے، علماکرام کووِڈ19کے خلاف میں حکومت کا ساتھ دیں ،کورونا کی دوسری لہر کے خطرہ اور مزید نقصانات سے بچاءو کےلئے بر وقت فیصلہ سازی کی ضرورت ہے، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے،ملک دشمن عناصر مذہب کی آڑ میں معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں ہیں جسے سب نے ملکر ناکام بنانا ہے ،دور حاضر کے چیلنجوں سے نمٹنے اور فرقہ واریت کی روک تھام کےلئے علمائے کرام اپنا کردار ادا کریں اور عوام کو کورونا سے بچاءو کے حوالے سے رہنمائی بھی فراہم کریں ۔ دریں اثنا قومی رابطہ کمیٹی برائے کوویڈ-19 کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق کورونا کا مرض دوبارہ سر اٹھا رہا ہے ۔ اجلاس میں عوامی اجتماعات پر پابندی اور غیرضروری سرگرمیوں کو محدودکرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم سے چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن چیلا رام کیلانی کی قیادت میں کمیشن کے وفد نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کےلئے پر عزم ہے اور اس حوالے سے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ مزید برآں عمران خان نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی معروف مذہبی شخصیات کے وفد سے گفتگو کرتے کہا کہ دورِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے ضروری ہے کہ معاشرے کی سماجی ، ثقافتی اور مذہبی اقدار کو اجاگر کیا جائے اور اس ضمن میں علمائے کرام کا کلیدی کردار ہے ۔ علمائے کرام نے ہمیشہ مشکل وقت میں حکومت اور قوم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا ہے ۔ معاشرے میں اسلامی اقدار کو اجاگر کرنے، دور حاضر کے چیلنجوں سے نمٹنے اور فرقہ واریت کی روک تھام کے ضمن میں علمائے کرام اسی جذبے سے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ کورونا کے خلاف جنگ میں علمائے کرام اور مذہبی شخصیات حکومتی کوشش کا ساتھ جاری رکھیں گے اور عوام کو کورونا سے بچاءو کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے ۔ یقیناجلسے، جلوس اپوزیشن سمیت سب کا بنیادی حق ہے اور آزادی اظہار کے زمرے میں آتا ہے لیکن اگر اپوزیشن حدود اور قیود سے باہر نکلے گی تو یقینا جیل کی ہوا کھانا پڑیگی ۔