- الإعلانات -

مو ٹر وے زیادتی کیس،حکومت نے اپنی جیت کو دکھانے کیلئے کسی قانون کی پاسداری نہیں کی،ایس کے نیازی

گر آپ ضابطہ اخلاق کے تحت کسی واقع کو کوریج دیتے ہیں تو مناسب کوریج دینا اچھی بات ہے ، میڈیا کی کوریج ضروری ہے ، لیکن حد سے زیادہ میڈیا ٹرائل بھی نہیں ہونا چاہئے
حکومت نے کورونا کی وجہ سے لاک ڈا ءون بھی شروع کر دیا ، اچانک کرونا کو زیادہ کر دیا ، پی ڈی ایم جو کررہی ہے اس سے کچھ بھی حاصل نہ ہو گا، ا اس نے اپنے ذاتی مفادات سامنے رکھنے ہیں
دارے کچھ نہیں کر رہے ، میں سی ڈی اے گیا ریکارڈ کی بوریاں پڑی ہیں کام نہیں ہو رہا ، اداروں کا برا حال ہوتا جا رہا ہے ، سوئی گیس کے دفتر کو دیکھ ہوشربابل بھیجے جار ہے ہیں ،سچی بات میں گفتگو
اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے کہا کہ میڈیا پر پنجاب حکومت نے انسداد دہشتگردی عدالت میں درخواست دی کہ موٹروے کیس کی کوریج نہ کی جائے ، اس پر ہ میں دکھ تھا، اطلاعات نہ پہنچانا تو زیادتی تھی، پیمرا کا جو ضابطہ اخلاق ہے اس کے تحت خبر شاءع کرنا تھی، ہم نے اس پر عمل کرنا تھا ہمارا بھی اپنا ضابطہ اخلاق ہے ، قومی اسمبلی میں بھی اس پر گفتگو ہوئی، فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا کہا تھا ، ہمارا جو ضابطہ اخلاق ہے اس پر ہم خود عمل کرتے ہیں ، ہم کبھی بھی سنسنی خیز ی کی خبر نہیں چلاتے ، حکومت نے اپنی جیت کو دکھانے کیلئے کسی قانون کی پاسداری نہیں کی تو ہم نے میڈیا کی آزادی کیلئے آوازاٹھائی ہے اور اٹھاتے رہیں گے ، موٹروے کیس کی کوریج کو روکنا زیادتی تھی، پابندی کے باوجود تمام وزراء اس حوالے سے بیانات دیتے رہے ، پیمرا کے جو قوانین ہیں ان پر عملد رآمد ضروری ہے ، فیصلہ ہوا ہے کہ فیصلہ آیا، پیمرانے پابندی عائد رکھی، لیکن ملزم کی تصویر دکھائی اور وزراء نے بھی بیانات دیئے ، انہوں نے کہا کہ کوریج نہ دینا بھی نقصان دہ ہے اور زیادہ کوریج کرنا بھی نقصان دہ ہے ، اگر آپ ضابطہ اخلاق کے تحت کسی واقع کو کوریج دیتے ہیں تو مناسب کوریج دینا اچھی بات ہے ، اگر کور نہیں کریں گے تو حکومت کو کیا مسئلہ ہو گا، میڈیا کی کوریج ضروری ہے ، لیکن حد سے زیادہ میڈیا ٹرائل بھی نہیں ہونا چاہئے ، پیمرا کے اونر موجود ہیں ، سوشل میڈیا کنٹرول میں نہیں ہے ، ٹک ٹاک کے حوالے سے انٹرنیشنل ایشو ہے ، پیمرا اس پر پابندی نہیں لگا سکتا ، انہوں نے کہا کہ فیصلہ میں حدود و قیود دی جاتی لیکن ایسا نہ ہوا، کچھ حدیں قائم کردی جاتی تو ٹھیک تھا، بالکل پابندی کے حوالے سے ہ میں تکلیف تھی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا دبا ہوا نہیں ہے ، عابد علی ملہی کیس کے حوالے سے وزیروں ، مشیروں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے ، پی ڈی ایم اے حوالے سے سوال کے جواب میں ایس کے نیازی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے حکومت نے لاک ڈا ءون بھی شروع کر دیا ، اچانک کرونا کو زیادہ کر دیا ہے ، پی ڈی ایم جو کررہی ہے اس سے کچھ بھی حاصل نہ ہو گا، انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم مہنگائی نہیں اپنے ذاتی مفادات سامنے رکھنے ہیں ، ادارے کچھ نہیں مان رہے ، میں سی ڈی اے گیا ریکارڈ کی بوریاں پڑی ہیں کام نہیں ہو رہا ، اداروں کا برا حال ہوتا جا رہا ہے ، سوئی گیس کے دفتر کو دیکھ یلں ہوشربابل بھیجے جار ہے ہیں ،

ایس کے نیازی