- الإعلانات -

ایک دوسرے کی شدید مخالفت کے باوجود حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی سنگین مسئلے پرہم آواز

لاہور( نیوزڈیسک)حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی کا لڑکیوں کی شادی کیلئے کم از کم اٹھارہ عمر مقرر کرنے کا مطالبہ،شادی کیلئے شناختی کارڈ لازمی قراردیا جائے،وفاق اور صوبائی حکومتیں چائلڈ میرج ایکٹ میں فوری ترمیم یقینی بنائیں،خواتین ارکان اسمبلی کا لڑکیوں کی شادی کیلئے عمر 16سال سے بڑھاکر 18سال کرنے کا ایشو فوری پنجاب اسمبلی میں اٹھانے کاعزم،کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کیلئے آن لائن پٹیشن مہم چلائی جا رہی ہے جس کو جلد مکمل کرکے پنجاب اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔

لاہور کے مقامی ہوٹل میں غیر سرکاری تنظیم برگد کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں رکن پنجاب اسمبلی سمیرا بخاری،بشری انجم ،سعدیہ سہیل ،عظمیٰ کاردار،پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سے ایس پی عاصم جسیرا،حفیظ راشد،برگد کی چیئر پرسن صبیحہ شاہین،ڈائریکٹروومن ڈویلپمنٹ سنجیل نوید ،فاطمہ جمیل سمیت سول سوسائٹی اور دیگر تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔مقررین نے مزید کہا کم عمری کی شادی ایک برائی ہے اور اسے پنجاب سے ختم کرنا ہوگا۔ کم عمری کی شادی ان لڑکیوں کی صحت اور مجموعی طور پر تندرستی کے لئے نقصان دہ ہے جن کی شادی بہت کم عمری میں ہوئی ہے کیونکہ وہ جسمانی یا جذباتی طور پر ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں قانون سازی بل پر عمل پیرا ہونا یقینی بنایا جس میں چائلڈ میرج ریگرینٹ ایکٹ 1929 میں لڑکیوں کی شادی کے لئے عمر میں اضافے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ایم پی اے سومرا بخاری نے کہا کہ خواتین ایم پی اے اس بات پر پوری طرح متفق ہیں کہ چائلڈ میرج ریگرینٹ ایکٹ میں قانون سازی ترمیم جلد از جلد 1929 کی منظوری دی جانی چاہئے۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سے ایس پی محمد عاصم جسرا نے کم عمری کی شادی کے معاملے کے بارے میں معاشرتی بیداری کی ضرورت پر زور دیا اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پنجاب میں نظام تعلیم میں تبدیلیوں کی تجویز پیش کی۔ محکمہ خواتین خواتین کی ترقی کے ڈائرکٹر ،

سجیل نوید نے کہا کہ بچوں کی شادی کی عمر محض تعداد یا اعداد و شمار نہیں ہے ، اس کا تعلق ہمارے معاشرے کی ثقافت ، معاشرتی اور معاشی صحت اور تندرستی سے ہے۔شرکا کو 14 سال کی لڑکی نوال کے ذریعہ شروع کردہ آن لائن پٹیشن کے نتائج بھی پیش کیے گئے۔ اب تک 22،700 افراد نے اس درخواست کی توثیق کی ہے اور حکومت سے پنجاب میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر کو 16 سے بڑھا کر 18 سال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مقصد پنجاب اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے 50،000 دستخطیں جمع کرنا ہیں۔