- الإعلانات -

پاکستان میں پہلی بار الیکٹرک بائیک رائیڈنگ سروس متعارف

سفر کرنے والے افراد کی بڑھتی تعداد کے لیے سہولیات متعارف کرانے اور ملک میں ٹرانسپورٹ کی سستی اور جلد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں پہلی بار الیکٹرک بائیک رائیڈنگ متعارف کرادی گئی۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی اسٹارٹ اپ کمپنی رومر ٹیکنالوجیز نے جاز ایکس ایل آر 8 کے تعاون سے ’ایز بائیک‘ نامی منفرد الیکٹرک بائیک رائیڈنگ سروس کو متعارف کرادیا۔

ابتدائی طور پر ’ایز بائیک‘ سروس کو دارالحکومت اسلام آباد میں متعارف کرایا گیا ہے اور ابتدائی مرحلے میں الیکٹرک بائیک رائیڈنگ کی آزمائشی سروس شروع کی گئی ہے۔ ’ایز بائیک‘ کا افتتاح 14 اکتوبر کو کیا گیا اور 15 اکتوبر سے اسلام آباد میں اس کی آزمائش شروع کردی گئی۔ ’ایز بائیک‘ کی افتتاحی تقریب میں انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور ٹیلی کام کے وفاقی وزیر امین الحق، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری اور حکومتی ٹیکنالوجی سیکٹر کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔’ایز بائیک‘ کو پاکستان میں متعارف کرائے جانے کو وفاقی وزرا اور اہم حکومتی ارکان نے نہ صرف نئے پاکستان کے لیے اہم قرر دیا بلکہ کہا کہ اس سے ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی حل ہوں گے جب کہ سفر کرنے والے افراد کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔

’ایز بائیک‘ الیکٹرک بائیک رائیڈنگ سروس کا نام ہے، جیسے ٹیکسی سروس ’کریم اور اوبر‘ ہیں۔
’ایز بائیک‘ اسکوٹی ڈیزائن کی الیکٹرک بائیک ہے جو نہ صرف چلانے میں اسان ہوتی ہے بلکہ یہ ماحول دوست بھی ہیں اور اس سے ایندھن کے مہنگے اخراجات سے بھی جاسکتا ہے۔ ’ایز بائیک‘ کی طرح کے متعدد منصوبے بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی چل رہے ہیں اوراس وقت بھارت کے متعدد شہروں سمیت دنیا بھر کے 88 شہروں میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس لوگوں کو سستی اور جلد سفری سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔

بھارت میں اسی طرح کی 50 ہزار بائیکس مختلف شہروں میں عوام کو سستی اور جلد سفری سہولیات فراہم کر رہی ہیں اور پاکستان میں بھی رومر ٹیکنالوجی آئندہ 2 سال تک ایسی بائیکس کی تعداد 2 ہزار تک لے جانا کا ارادہ رکھتی ہے۔

پاکستان میں ابتدائی طور پر ’ایز بائیک‘ کو صرف اسلام آباد میں متعارف کرایا گیا ہے، اگلے مرحلے میں مذکورہ بائیکس کو کراچی اور لاہور میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔ ’ایز بائیک‘ کے ذریعے لوگ مخصوص علاقوں میں ایک سے دوسری جگہ آسانی سے سفر کرسکیں گے۔ ’ایز بائیک‘ اسی نام سے بنائی گئی ایپ کے ذریعے چلائی جا سکے گی یہ بلکل ’بائیکیا‘ اور دیگر سفری سہولیات فراہم کرنے والی ایپس کی طرح کام کرتی ہے۔

تاہم ’ایز بائیک‘ دیگر سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے اس طرح مختلف ہے کہ اس میں ہر کسی کو خود ہی الیکٹرک بائیک چلانی پڑے گی اور مذکورہ شخص اپنا سفر ختم ہونے پر بائیک کو بتائے گئے پوائنٹس میں سے بھی کسی بھی جگہ چھوڑ دے گا۔ ’ایز بائیک‘ میں صارفین کو یہ سہولت بھی فراہم کی جائے گی کہ وہ شہر کے بتائے گئے روٹس میں سے کسی بھی جگہ کھڑی الیکٹرک بائیک اٹھاکر چلا سکیں گے، تاہم ایسا کرنے سے قبل انہیں ’ایز بائیک‘ پر اپنی رائیڈنگ اسٹارٹ کرنی پڑے گی اور رائیڈنگ کو ایپ کے ذریعے ہی مانیٹر کیا جائے گا۔

’ایز بائیک‘ کے صارفین کو یہ سہولت بھی فراہم کی جائے گی کہ وہ اپنا سفر ختم ہونے پر بائیک کو بتائے گئے مقام پر کھڑا کردیں، بائیک کی سیکیورٹی یا اس کے دیگر مسائل کا ذمہ صارف پرنہیں ہوگا۔ ’ایز بائیک‘ پورے شہر کے بجائے مخصوص علاقوں میں سروس فراہم کرے گی اور عین ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ سہولت تمام شہروں میں متعارف کرائی جائے، تاہم ابتدائی طور پر یہ سہولت بڑے شہروں کے مخصوص علاقوں تک محدود ہوگی۔

’ایز بائیک‘ مکمل طور پر الیکٹرک بائیک ہے جس کی رفتار بھی ٹھیک ہے اور اسے چلانا بھی آسان ہے۔ ’ایز بائیک‘ پر فی منٹ کے 5 روپے چارجز وصول کیے جائیں گے، تاہم اس سے قبل ریٹ بھی دستیاب ہوں گے اور سفر کرنے والا شخص خود ہی رائیڈنگ کا لطف بھی اٹھا سکے گا۔