- الإعلانات -

5807 پاکستانیوں کے نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم

اسلام آباد (نیوزڈسک):وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ نے طویل عرصے سے بلیک لسٹ میں شامل پاکستانی شہریوں کی پریشانیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو ہدایت کی کہ فوری طور پر جائزہ کمیٹی فیصلے کے مطابق کیٹگریبی کے تحت 5807 بلیک لسٹ ہونے والے شہریوں کو بلیک لسٹ سے نکال دیا جائے۔

فیصلہ تمام متعلقہ تحقیقاتی ایجنسیوں اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مشاورت سے کیا گیا ہے مختلف وجوہات کی بنیاد پر ان افراد کو بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔ لسٹ میں 42ہزار 725 افراد شامل تھے۔ ہفتہ کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی کا اجلاس تقریبا چار سال کے وقفے کے بعد 8 اکتوبر 2020 کو ہوا۔ کمیٹی کا سابقہ اجلاس یکم دسمبر 2016 کو ہوا تھا۔ کمیٹی نے متعلقہ ایجنسیوں/محکمہ کی سفارشات کے مطابق اپنے جائزہ میں ان افراد کے متعلق غور کیا ۔

وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت کے مطابق ، کمیٹی کے اجلاسوں کے بعد سرکاری ایجنسیوں /محکموں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد بلیک لسٹ فہرست افراد کے معاملات کا جائزہ لینے کے لئے دو سالانہ اجلاسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے پہلے ہی ڈائریکٹوریٹ جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے کیونکہ یہ پوری دنیا میں ہمارے انسانی وسائل کو قابل استعمال ترسیلات وطن واپس بھیجنے کا ذریعہ ہیں۔ تاہم انہوں نے ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں مقامی اور داخلی قوانین کی شفافیت اور تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے۔