- الإعلانات -

ایس پی سی آئی اے کے تبادلے سے پنجاب پولیس کے حوصلے پست

لاہور: آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے بظاہر لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ سے تصادم سے بچنے کے لیے جمعرات کو منعقدہ ایک اجلاس کے دوران عمر شیخ سے ٹکرانے والے کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے ایس پی عاصم افتخار کا تبادلہ کردیا ہے۔ سینئر پولیس افسران کو توقع تھی کہ آئی جی پولیس دونوں افسران کے مابین ثالثی کرائیں گے اور سی سی پی او کی سربراہی میں لاہور میں کام کرنے والے دوسرے لوگوں کا اعتماد بحال کریں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ لاہور میں اب بہت سارے اہم عہدے ایک ایسے وقت میں خالی ہیں جب حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی نقل و حرکت زور پکڑ رہی ہے جس سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا خطرہ پیدا ہوتا جا رہا ہے، ایک سینئر افسر نے رپورٹر کو بتایا کہ ڈی پی او اوکاڑہ کے عہدے پر تعینات فیصل شہزاد کے تبادلے کے بعد سب سے اہم عہدہ ایس ایس پی آپریشنز لاہور کا ہے۔

اسی طرح انہوں نے کہا کہ ایس پی سیکیورٹی اور ایس پی انسداد فساد فورس کا دستہ بھی پچھلے کئی مہینوں سے خالی تھا اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ لاہور پولیس ڈپارٹمنٹ ان تین انتہائی اہم پولیس افسروں کے بغیر کام کررہا ہے۔ وی آئی پی اور وی وی آئی پی نقل و حرکت کی نگرانی اور منصوبوں کی تیاری کے لیے ایس پی سیکیورٹی اہم کردار ادا کرتے ہیں، مخالف جماعتوں کے احتجاج کے دوران انسداد فسادات ایس پی کی عدم موجودگی کو پنجاب اور لاہور پولیس کی ’کمزور کمانڈ‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بیشتر پولیس افسران نے ’جارحانہ رویے‘ کی وجہ سے لاہور سی سی پی او کی سربراہی میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جمعہ کے روز آئی جی پولیس نے عاصم افتخار کا تبادلہ کیا اور انہیں چُھگ میں ایس پی لیگل پولیس ٹریننگ کالج طارق عزیز کا نائب اور ایس پی ہیڈ کوارٹر ٹریفک پولیس پنجاب کے عہدے پر تعینات کردیا تھا، ایس پی سی آئی اے لاہور کے تبادلے کے بعد یہ پانچواں عہدہ ہے جو لاہور میں خالی پڑا ہے، اس کے علاوہ سب ڈویژنل پولیس افسران کے تین عہدے بھی خالی ہیں۔

عاصم افتخار کا تبادلہ اس وقت ہوا جب ان کے اور سی سی پی او لاہور کے درمیان جمعرات کو روز علی الصبح پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں منعقدہ اجلاس میں گرما گرمی ہوئی، اجلاس کے دوران عمر شیخ نے عاصم افتخار کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا اور آئی جی پولیس کو تجویز پیش کی تھی کہ ان کے حکم پر روح کے مطابق عمل نہ کرنے پر وہ افسر کو معطل کردیں۔

ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عمر شیخنے جب سے سی سی پی او لاہور کا عہدہ سنبھالا ہے، وہ رات گئے سرکاری ملاقاتوں میں مصروف رہے جو صبح سویرے تک جاری رہتی ہیں، افسران کو کسی بھی قیمت پر ‘نامناسب اوقات پر’ بہرصورت ان ملاقاتوں میں شرکت کا پابند کیا جاتا ہے جس سے ان کی نجی اور فیملی کی زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

سینئر افسر نے کہا کہ جمعرات کے ناخوشگوار واقعے کو لاہور پولیس کی تاریخ کا ایک "تاریک واقعہ” سمجھا جائے گا جس کے سینئر پولیس افسران ذلیل، ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد کچھ سینئر پولیس افسران نے آئی جی پنجاب کو اپنی سطح پر ’پنجاب پولیس فورس کا کمانڈر‘ ہونے کی حیثیت سے اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی، انہوں نے اسے دوسرے واقعات کا حوالہ بھی دیا جس میں سی سی پی او نے اپنے ماتحت افسران کو گرفتار کیا اور مقدمات درج کرنے کے بعد انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آئی جی پنجاب نے نہ تو سی سی پی او سے ماتحت افراد کے ساتھ نرم سلوک کرنے کے لیے بات کی اور نہ ہی انہوں نے حقائق عوام کے سامنے لانے کے لیے کسی قسم کی تحقیقات کیں، انہوں نے کہا کہ اس وقت آئی جی پنجاب نے معاملات کو حل کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد کر کے پنجاب پولیس کی حوصلہ شکنی کی، انہوں نے کہا انعام غنی نے اس کے بجائے چالاکی کا ثبوت دیتے ہوئے ایس پی سی آئی اے لاہور کے تبادلے کے احکامات جاری کیے جس سے انہوں نے دوسرے پولیس افسران کو یہ پیغام دیا کہ وہ عمر شیخ کے احکامات پر عمل کریں۔

ایک اور سینئر پولیس افسر نے تبصرہ کیا کہ ماتحت افراد کو سخت سزا دینا نہ تو نیا ہے اور نہ ہی مشکل، اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے کام کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ایک مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی چیز ہے جہاں ایک سینئر پولیس افسر کے حقیقی رہنما کے طور پر خصوصیات جانچی جاتی ہے۔