- الإعلانات -

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا پاناما لیکس کی تحقیقات کےلئے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار

جب تک مناسب قانون سازی اور فریقین ٹی او آرز طے نہیں کر لیتے کمیشن نہیں بن سکتا، حکومتی خط میں تحقیقات کےلئے خاندان کے نام کے افراد نہیں بتائے گئے ،اگر پانامہ لیکس پر کمیشن بنانا جانا ہے تو اس پر باقاعدہ قانون سازی کی جائے، جو ٹرم آف ریفرنسز دیئے گئے ان کے مکمل ہونے میں سالوں لگ جائیں گے،انفرادی خاندانوں اور گروپوں کی فہرست فراہم کی جائے جن کے خلاف تحقیقات کی جانی ہیں، ہمیں اس معاملے پر معلومات دی جائیں گی تو عدالت کمیشن کے حوالے سے غور کرے گی، حکومت کی طرف سے لکھے گئے خط کے جواب کا متن.
اسلام آباد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما لیکس کی تحقیقات کےلئے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مناسب قانون سازی اور فریقین ٹی او آرز طے نہیں کر لیتے کمیشن نہیں بن سکتا، حکومتی خط میں تحقیقات کےلئے خاندان کے نام کے افراد نہیں بتائے گئے ،اگر پانامہ لیکس پر کمیشن بنانا جانا ہے تو اس پر باقاعدہ قانون سازی کی جائے، جو ٹرم آف ریفرنسز دیئے گئے ان کے مکمل ہونے میں سالوں لگ جائیں گے،انفرادی خاندانوں اور گروپوں کی فہرست فراہم کی جائے جن کے خلاف تحقیقات کی جانی ہیں، ہمیں اس معاملے پر معلومات دی جائیں گی تو عدالت کمیشن کے حوالے سے غور کرے گی۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے 22 اپریل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو پاناما لیکس کے معاملے پر 3 رکنی کمیشن بنانے کےلئے خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1956 کے تحت 3 رکنی کمیشن تشکیل دیکر اس کی سربراہی ترجیحی بنیاد پر چیف جسٹس خود کریں۔ حکومت کی جانب سے خط میں کہا گیا تھا کہ سیاسی اثرو رسوخ کے ذریعے قرضے معاف کرانے والوں، کرپشن، کمیشن اور کک بیک کے ذریعے بیرون ملک فنڈز کی منتقلی سے متعلق امور کی تحقیقات کی جائیں۔ حکومت نے خط کے ساتھ کمیشن کے ٹرمزآف ریفرنس بھی منسلک کئے گئے جس کے مطابق کمیشن کسی بھی فرد، ٹیکس ماہرین، اکاو¿نٹنٹس کو طلب کرنے سمیت کسی بھی قسم کے دستاویزات کے حصول کے لئے تمام عدالتوں، سرکاری افسران یا سرکاری دفاترسے ریکارڈ طلب کرنے کا مجازہوگا۔ جمعہ کو حکومت کی طرف سے لکھے گئے خط کے جواب میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جوابی خط تحریر کر دیا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے فیصلے سے سیکرٹری قانون کو آگاہ کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے وزارت قانون کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جب تک مناسب قانون سازی نہیں ہوتی سپریم کورٹ پاناما لیکس پر کمیشن نہیں بناسکتی۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے قانون سازی کی جائے، کیونکہ ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز )کے حتمی فیصلے تک جوڈیشل کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔اپنے خط میں چیف جسٹس نے کہاکہ تحقیقات کےلئے شریف خاندان کے افراد کے نام بھی نہیں بتائے گئے۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کمیشن کےلئے ٹرمز آف ریفرنسز مقررکئے گئے تھے کہ کمیشن پاکستانی شہریوں، پاکستانی نڑاد غیر ملکیوں اور اداروں سے پاناما یا کسی اور ملک میں آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کرسکے گا۔کمیشن کو موجودہ یا پھر سابقہ عوامی عہدوں کے حامل افراد سے بھی تحقیقات کا اختیار ہوگا جنہوں نے سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے یا اہل خانہ کے قرضے معاف کرائے یا پھر کرپشن، کمیشن یا کک بیکس کے ذریعے کمائی گئی رقم ملک سے باہر بھجوائی۔انکوائری کمیشن اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا پاناما لیکس کے الزامات کے مطابق کسی پاکستانی قانون کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔ انکوائری کمیشن کو ٹیکس ماہرین اور اکاﺅنٹنٹ سمیت کسی بھی شخص کو طلب کرنے کا اختیار ہوگا۔ کمیشن کسی بھی قسم کی دستاویز طلب کرسکے گا۔ انکوائری کمیشن کے سربراہ کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ مجاز افسر کو کسی بھی عمارت یا مقام میں داخلے اور مطلوبہ ریکارڈ کے حصول کے احکامات دے سکے گا۔ انکوائری کمیشن کی تمام کارروائی عدالتی کارروائی تصور ہوگی۔ تمام وفاقی اور صوبائی ادارے کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے۔ تحقیقات کب اور کہاں ہوں گی اس کا فیصلہ انکوائری کمیشن خود کرے گا۔ کابینہ ڈویڑن انکوائری کمیشن کو دفتری خدمات فراہم کرے گاتاہم حزب اختلاف کی 9 جماعتوں کی جانب سے حکومتی ٹی او آرز مسترد کر دیئے گئے تھے اور جوڈیشل کمیشن کےلئے 15 ٹی او آرز متفقہ طور پر منظور کئے گئے تھے۔اپوزیشن کے اجلاس میں پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، پاکستان مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) نے وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبے پر اتفاق کیا تھا تاہم قومی وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اختلاف کے باعث وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ ٹی او آرز میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔اپوزیشن کے ٹی او آرز میں کمیشن کی جانب سب سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ اس کے لیے 3 ماہ کی مدت مقرر کرنے کا بھی مطالبہ شامل تھا۔پاناما لیکس میں سامنے آنے والے دیگر افراد کے حوالے سے یہ شق شامل کی گئی تھی کہ وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے احتساب کے بعد دیگر لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے جبکہ اس کی تحقیقات ایک سال میں مکمل کر لینی چاہیے۔ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کو اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔ وزیراعظم اور ان کے اہل  خانہ خود کو تحقیقات کیلئے کمیشن کے سامنے پیش کریں۔ نواز شریف 1985 سے 2016 تک جائیداد کی تفصیلات فراہم کریں۔ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے ذرائع آمدن کیا تھے، کن بینک اکاو¿نٹس میں رقم رکھی گئی؟ کیا اس آمدن پر انکم ٹیکس ادا نہیں کیا جانا تھا؟ بیرون ملک خریدی گئی جائیدادوں کیلئے رقم کن بینک اکاو¿نٹس، کس تاریخ پر ادا کی گئی؟کمیشن کو آف شور اکاو¿نٹس میں بھیجی گئی رقم کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔کیا وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ دسمبر 2000 کے بعد اسٹیٹ گیسٹ تھے؟خصوصی کمیشن عالمی فرانزک آڈٹ کیلئے ماہرین کی کمیٹی بھی مقرر کرسکے گا۔ماہرین کی کمیٹی آف شور کمپنیوں کیلئے رقم کی مکمل چھان بین کرے گی۔نیب اور ایف آئی اے سمیت تمام وفاقی اور صوبائی ادارے کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے تاہم اپوزیشن کے ٹی او آرز کو حکومت نے مسترد کر دیا وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک پریس کانفرنس میں اپوزیشن کے ٹی او آرز کو تماشا قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا اعلان کای اور اپوزیشن کو حکومت سے مل کر متفقہ ٹی او آرز بنانے کی دعوت دی تاہم 2 روز قبل اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں وزیراعظم کےلئے ایک سوالنامہ تیار کیا گیا تھا جس میں ان سے لندن میں موجود جائیدادوں، آف شور کمپنیز اور ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے 7 سوالات کا جواب مانگا گیا تھا۔آف شور ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے مالی معاملات عیاں ہوئے تھے۔تحقیقاتی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم (انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹیو جرنلسٹس) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی ‘آف شور’ کمپنیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔