- الإعلانات -

مدرسے میں زیر تعلیم طالب علم حراست میں ، پشاور دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار

پشاور(روزنیوز) پشاور میں گذشتہ روز ہونے والے دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرلی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں منگل کے روز مدرسے میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اب اس دھماکے کی ابتدائی رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دھماکے سے قبل مدرسے میں آنے والے طالب علموں کی ریکی کی گئی۔مدرسے میں تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں سے بھی تفتیش کی گئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مدرسے میں درس و تدریس کے لیے آنے والے طالب علموں کی ریکی کی گئی۔مدرسے میں زیر تعلیم ایک طالب علم کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔طلباء کا ریکارڈ، کوائف کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔

مشتبہ شخص کے بیگ رکھنے سے متعلق عینی شاہدین کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ منگل کے روز پشاور کے علاقے دیرکالونی میں دھماکے سے 7 افراد شہید اور70 زخمی ہوگئے، زخمیوں میں زیادہ تعدد بچوں کی ہے ، جن کی عمریں 11 سے17 سال کے درمیان ہیں۔ پولیس کے مطابق دھماکہ بچوں کے مدرسے کے قریب ہوا ، جہاں 100سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

دھماکے سے قبل مدرسے میں ایک مشکوک شخص بھاری بیگ لے کر داخل ہوا جس کی تلاش جاری ہے۔ وزیراعظم سمیت ملک کی تمام سیاسی قیادت نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ جبکہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے پشاور کے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کو آرمی پبلک اسکول کے بعد دوسرا بڑا سانحہ قرار دے دیا ، صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج کا واقعہ اے پی ایس کے بعد دوسرا بڑا سانحہ ہے ، علاقے میں کافی عرصے سے امن تھا اور سیکیورٹی بھی بہتر تھی ، دہشت گرد اپنے مقاصد کیلئے سافٹ ٹارگٹ دیکھتے ہیں ، بچے اور مدرسے دہشت گردوں کا سافٹ ٹارگٹ تھے ، کیوں کہ دہشت گردوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ہم اس دھماکے کی پرزور مذمت کرتے ہیں ، دہشت گردی کی اطلاعات تھیں ، کیوں کہ نیکٹا کی طرف سے کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی تھریٹ الرٹ تھا ، جس کی بنا پر علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی تھی ، تاہم ہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کی ہے۔