- الإعلانات -

غلط درآمدی زرعی پالیسی سے ملک کو 440ارب کا نقصان ہوا، خواجہ آصف

مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف نے حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ درآمد کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو 440ارب روپے کا نقصان ہوا۔بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ کیسی زرعی پالیسی ہے کہ وہ چیزیں جن میں ہم خود کفیل تھے آج ہم انہیں درآمد کر رہے ہیں اور پاکستان میں ان کی قلت ہے اور یہ قیمتیں کبھی نہیں سنی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ درآمد کی غلط پالیسی اپنانے سے 440ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، یہ رقم کون ادا کرے گا، یہ نقصان عام پاکستانی ہوشربا مہنگائی کی صورت میں اٹھا رہا ہے جس سے 30-35 ہزار ماہوار کمانے والے شخص کے لیے زندگی گزارنا ناممکن ہو گیا ہے۔خواجہ آصف نے گندم کی قیمت 1600 روپے فی من مقرر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمت 2ہزار روپے من مقرر کی جائے اور اگر صرف 40ارب روپے کسان کو دیے جائیں تو پوری ہو سکتی ہے اور آپ خود کفیل ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر حکومت کی توجہ ہونی چاہیے لیکن اپنے دوستوں اور اے ٹی ایمز کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہے، ہم اس مسئلے پر اجلاس سے واک آؤٹ کرتے ہیں۔اس موقع پر وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے کہا کہ اپوزیشن نے بات ککی ہے تو جواب بھی سننا چاہیے، پارلیمانی تہذیب کا تقاضا تو یہی ہے کہ جو سوال کیا جائے اس کا جواب بھی سنا جائے۔انہوں نے کہا کہ کل کابینہ میں گندم کی قیمت 2ہزار روپے من مقرر کرنے پر حث ضرور ہوئی ہے لیکن فیصلہ نہیں ہو، تین صوبوں نے اپنی سفارشات دے دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیدواری قیمت ایک فارمالے کے تحت تیار کرنے کے بعد پنجاب نے اپنی سفارشات بھجوا دی ہیں جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے اپنی سفارشات بھجوا دی ہیں لیکن حکومت سندھ نے تاحال اپنی سفارشات نہیں بھجوائیں جس کی وجہ سے اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بحث ہوئی ہے، کمیٹی بنی ہے اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ہماری حکومت ایک پیکج دینا چاہتی ہے اور اس پیکج میں کھاد، بیج اور ادویہ رعایتی قیمت پر دینا چاہتی ہے اور یہ زرعی کمیٹی ایک پیکج کی صورت میں اعلان کرے گی جبکہ اپوزیشن کی تجویز پر یقیناً غور کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جو بھی سفارشات ہیں وہ کمیٹی کو بھجوا دے۔ ہم یقیناً پاکستان کے بہتر مفاد میں فیصلہ کریں گے اور ان کے سفارشات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔