- الإعلانات -

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی کو ایوان سے نکال دیا گیا

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اور اسپیکر کے درمیان تلخ کلامی کے نتیجے میں ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کو ایوان سے نکال دیا گیا۔بدھ کو قومی اسمبلی میں درآمدی پالیسی کے خلاف اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔اپوزیشن کے واک آؤٹ کے باوجود ایوان میں اس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی جب پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر کے ڈائس کے قریب آ گئے۔

اس موقع پر قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی نے رولنگ دی کہ انہیں ایوان سے نکالا جائے، آپ پورے سیشن میں یہاں نہیں بیٹھ سکتے۔اسپیکر نے آغاز رفیع اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نکلیں یہاں سے، آپ یہاں آج نہیں بیٹھ سکتے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کوئی میرے قریب تو آ کر دکھائے۔قاسم سوری نے کہا کہ انہیں پھر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو بطور اسپیکر کہہ رہا ہوں کہ آپ یہاں سے جائیں جس پر آغاز رفیع اللہ نے کہا کہ آپ معاون خصوصی کا دفاع کرنے کے حوالے سے میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دے رہے۔

قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی نے سارجنٹ کو حکم دیا کہ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کو ایوان سے باہر لے کر جائیں۔اس سے قبل قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ کیسی زرعی پالیسی ہے کہ وہ چیزیں جن میں ہم خود کفیل تھے آج ہم انہیں درآمد کر رہے ہیں اور پاکستان میں ان کی قلت ہے اور یہ قیمتیں کبھی نہیں سنی تھیں۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف نے حکومتی زرعی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا— فوٹو: ڈان نیوز
ان کا کہنا تھا کہ درآمد کی غلط پالیسی اپنانے سے 440ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، یہ رقم کون ادا کرے گا، یہ نقصان عام پاکستانی ہوشربا مہنگائی کی صورت میں اٹھا رہا ہے جس سے 30-35 ہزار ماہوار کمانے والے شخص کے لیے زندگی گزارنا ناممکن ہو گیا ہے۔

خواجہ آصف نے گندم کی قیمت 1600 روپے فی من مقرر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمت 2ہزار روپے من مقرر کی جائے اور اگر صرف 40ارب روپے کسان کو دیے جائیں تو پوری ہو سکتی ہے اور آپ خود کفیل ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر حکومت کی توجہ ہونی چاہیے لیکن اپنے دوستوں اور اے ٹی ایمز کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہے، ہم اس مسئلے پر اجلاس سے واک آؤٹ کرتے ہیں۔اس موقع پر وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے کہا کہ اپوزیشن نے بات ککی ہے تو جواب بھی سننا چاہیے، پارلیمانی تہذیب کا تقاضا تو یہی ہے کہ جو سوال کیا جائے اس کا جواب بھی سنا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کل کابینہ میں گندم کی قیمت 2ہزار روپے من مقرر کرنے پر حث ضرور ہوئی ہے لیکن فیصلہ نہیں ہو، تین صوبوں نے اپنی سفارشات دے دی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیدواری قیمت ایک فارمالے کے تحت تیار کرنے کے بعد پنجاب نے اپنی سفارشات بھجوا دی ہیں جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے اپنی سفارشات بھجوا دی ہیں لیکن حکومت سندھ نے تاحال اپنی سفارشات نہیں بھجوائیں جس کی وجہ سے اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بحث ہوئی ہے، کمیٹی بنی ہے اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ہماری حکومت ایک پیکج دینا چاہتی ہے اور اس پیکج میں کھاد، بیج اور ادویہ رعایتی قیمت پر دینا چاہتی ہے اور یہ زرعی کمیٹی ایک پیکج کی صورت میں اعلان کرے گی جبکہ اپوزیشن کی تجویز پر یقیناً غور کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جو بھی سفارشات ہیں وہ کمیٹی کو بھجوا دے۔ ہم یقیناً پاکستان کے بہتر مفاد میں فیصلہ کریں گے اور ان کے سفارشات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔