- الإعلانات -

منہ پر ہاتھ پھیرنے والا رنگیلا وزیراعظم آپ نے دیکھا کبھی؟

لاہور (روزنیوز) گزشتہ روز نیشنل اسمبلی میں خوب شورشرابہ اور لفظی گولہ باری ہوئی۔اس فورم پر حکومت و اپوزیشن کے ارکان نے ایک دوسرے پر طرح طرح کے الزام لگائے۔ زیادہ تر گفتگو ابھی نندن،کلبھوشن اور فرانس کے حالیہ اقدامات کے گرد رہی۔نیشنل اسمبلی کے ممبر قادر پٹیل نے اپنی باری آنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہربیار مری کی بے گناہی کی گواہیاں عمران خان نے دیں مگر انہوں نے اس بات کی تردید آج تک نہیں کی۔

اس وزیر اعظم سے مہنگائی کنٹرول نہیں ہوئی اورعوام بے روز گار ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صاحب کہتے ہیں کہ اب وہ پہلے والے عمران خان نہیں ہوں گے بلکہ اور ہوں گے۔جناب سپیکر ایک عمران خان تو ہم نے دیکھا تھا جو کنٹینر پر چڑھا تھااور کہتا تھا کہ اگر ڈالر اوپر جائے،بے روزگاری بڑھے،اور کرپشن میںاضافہ ہو تو سمجھ لو کہ وزیراعظم چور ہے۔

دوسرا وزیر اعظم ہم نے یہاں اپنے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے ہر کام کرنے کی اجازت دے دی اور پھر سب کچھ کنٹرول سے باہر ہو گیا۔اب کوئی تیسرا عمران خان سامنے آنے لگا ہے جو داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اب پہلے والا عمران خان نہیں بلکہ بدلا ہوا عمران خان بن کر سامنے آﺅں گا۔ایسا ایکٹر اور رنگیلا وزیراعظم میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

عوام بھوک سے مر رہی ہے،غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور وزیراعظم ایکٹنگ کرتے ہیں داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہیں اسے میں رنگیلا وزیراعظم نہ کہوں تو اور کیا کہوں۔قادر پٹیل کے ان الفاظ پر ہال شور سے گونج اٹھااور اپوزیشن اور حکومتی بینچوں سے ایک دوسرے کی طرف نعرے بلند ہونے لگے تاہم سپیکر اسمبلی نے کہا کہ وزیراعظم کے حوالے سے کہے گئے آپ کے الفاظ حذف کیے جاتے ہیں۔