- الإعلانات -

آزاد بلوچستان کا نعرہ لگانے پرپہلے وزیراعظم عمران خان کو سزا ملنی چاہیے

لاہور (روزنیوز) حکوت اور اپوزیشن نے آج کل سینگ پھنسائے ہوئے ہیں۔اپوزیشن نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعادہ کر رکھا ہے۔پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اب تک تین بڑے جلسے ہو چکے ہیں اور ان جلسوں میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔تاہم کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں پیپلز پارٹی کے راہنما اویس نورانی نے آزاد بلوچستان کا نعرہ بلند کر دیا۔

اس نعرے کے بلند ہونے کے بعد ایسا طوفان اٹھا ہے جو ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔حکومت نے انہیں غدارکہا اور ان پر مقدمہ درج کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔تاہم اویس نورانی نے اپنے اس ایکٹ پر معافی مانگتے ہوئے غلطی کا اعتراف کیااور کہا کہ یہ سلپ آف ٹنگ تھا میں نے جان بوجھ کر یہ نعرہ نہیں لگایا۔جبکہ حکومتی بینچوں سے ان کو معافی ملنے کا کوئی نام نہیں چاہے انہوں نے اپنی بات کی تردید بھی کر دی ہے۔

اسی موضوع پرنیشنل اسمبلی میں بات کرتے ہوئے اختر جان مینگل کا کہنا تھا کہ اگر ایسی باتوں پر سزا دینی ہے تو پھر وزیراعظم عمران خان کو سب سے پہلے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے کیونکہ جب لندن میں یوکے کی عدالتوں میں ہربیار مری پر دہشت گردی اور غداری کے علاوہ آزاد بلوچستان کا نعرہ لگانے کا کیس چل رہا تھا تو اس وقت ان کی بے گناہی کے لیے آج کے وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے ہربیار مری کے حق میں گواہی دی تھی کہ یہ بے گناہ ہے اور حق کی آواز بلند کر رہا ہے۔

اگر ہربیار مری کی جگہ میں عمران خان ہوتا تو میں بھی یہی کرتا۔کیونکہ یہ آوازیں ان مظالم کا نتیجہ ہیں جو ان پر کیے جاتے ہیں۔اختر خان مینگل نے کہا کہ اگر سلپ آف ٹنگ پر اویس نورانی آزاد بلوچستان کا نعرہ لگانے پر سزا کے مستحق ہیں تو اس نعرے کی ہربیار مری کے ساتھ حمایت کرنے پر عمران خان بھی برابر سزا کے مستحق ہیں پھر انہیں بھی سزا ملنی چاہیے۔