- الإعلانات -

پی آئی اے کا مراعات یافتہ ملازمین کی تنخواہیں اور سہولیات کم کرنے کا فیصلہ

راولپنڈی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے 450 پائلٹس، 400 انجینئرز اور 27 محکمہ خزانہ کے عہدیداروں کی تنخواہیں اور مراعات کم کرنے کا فیصلہ کرلیا تاکہ زیادہ مراعات یافتہ طبقے کے الاؤنسز اور دیگر ملازمین کی سہولیات میں توازن پیدا کیا جاسکے۔پی آئی اے کے محکمہ انسانی وسائل (ایچ آر) نے سہولیات میں کمی سے متعلق ایک نوٹیفکیشن جاری کیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق کیپٹن کو 75 گھنٹوں کے بدلے 50 گھنٹوں کا ضمانتی الاؤنس ادا کیا جائے گا، اس سے پہلے پائلٹس کو 75 گھنٹے کا ضمانتی الاؤنس ملتا تھا، یہاں تک کہ پرواز نہ اڑانے کی صورت میں بھی یہ دیا جاتا تھا۔

پی آئی اے کا کہنا تھا کہ اب یہ الاؤنس ایک مہینے میں پرواز کے 50 گھنٹے مکمل کرنے کے بعد ادا کیا جائے گا، اس کے علاوہ ایک وقت میں بیماری کی 5 دن سے زیادہ درخواست بغیر میڈیکل بورڈ کے قابل قبول نہیں ہوگی۔محکمہ خزانہ سے منسلک ملازمین اور مراعات یافتہ انجینئرز کے لیے زیادہ تنخواہوں اور مراعتوں کو بھی ضم کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 وبا کے دوران مالی بحران کے تناظر میں مراعات میں کمی کی گئی۔ اس حوالے سے پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان کا کہنا تھا کہ متعدد پی آئی اے ملازمین طویل عرصے سے مساوی مراعات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مراعات یافتہ اور زیادہ تنخواہیں لینے والے ملازمین نے اپنی طاقت کے باعث بتدریج اپنی مراعات میں اضافہ کروایا۔ خیال رہے کہ کئی پی آئی اے ملازمین حکومتی آڈٹ سے بے چین تھے اور سپریم کورٹ نے بھی اس سلسلے میں احکامات جاری کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ تنخواہوں اور مراعات میں کمی سے 450 پائلٹس، 400 انجینئرز اور 27 محکمہ خزانہ کے عہدیداران متاثر ہوں گے تاہم کیبن کریو اس میں شامل نہیں ہیں۔