- الإعلانات -

وزارتی کمیٹی کا پانی کے منصوبوں میں سست روی پر اظہار تشویش

اسلام آباد: بین الوزارتی فورم نے پانی کے شعبہ سے متعلق منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان منصوبوں کے لیے فنڈز بین الاقوامی قرض دہندہ اداروں نے دیے ہیں، فورم نے ان کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مربوط کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا۔ غیر ملکی فنڈنگ کے حامل منصوبوں کی قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی-ایف ایف پی) کی سربراہی کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے معاشی امور مخدوم خسرو بختیار نے پانی کے شعبوں سے متعلق منصوبوں پر عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

این سی سی-ایف ایف پی نے ورلڈ بینک، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اے آئی آئی بی ، امریکا، فرانس، جرمنی، سعودی فنڈ، کویت اور او ایف آئ ڈی کے فنڈز سے بننے والے پانی کے شعبوں سے متعلق تمام منصوبوں کا جائزہ لیا اس وقت 3 ارب 23 کروڑ 90 لاکھ مالیت کی بین الاقوامی فنڈنگ سے 15منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔ اجلاس کے دوران ‘مخدوم خسرو بختیار نے لائن ڈیپارٹمنٹ کو تیزی سے پانی کے شعبے سے متعلق منصوبوں پر عمل درآمد کرنے اور فوری طور پر مسائل کو حل کرکے ان منصوبوں کی تکمیل کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی’۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق ‘اس میں خصوصاً داسو ہائیڈرو پاور سمیت تربیلا کی ۵ ویں توسیع اور وارسک ہائیڈرو پاور منصوبے پر زوردیا گیا’۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس کو آگاہ کیا کہ تقریباً آدھے سے زیادہ واٹر سیکٹر پورٹ فولیو ‘پیچیدہ یا مشکل’ ہوچکے ہیں جس میں زیادہ تر مشکلات ایک جیسی ہی ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ان مشکلات میں اراضی کے حصول، کنسلٹنٹس یا مشیر کی تعیناتی اور نیلامی کا عمل شامل ہے، پورٹ فولیو کا جائزہ لینے کے بعد ‘کمیٹی نے عمل درآمد کے نفاذ میں ہونے رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک ٹائم لائن طے کی تاکہ منصوبوں پر جلد از جلد عمل درآمد کیا جاسکے’۔ خسرو بختیار نے کہا کہ مناسب نرخوں پر بجلی کی پیداوار اور معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ہائیڈرو پاور اور پانی کے شعبے کے جاری ترقیاتی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت بڑے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دے رہی تھی جو ملک میں پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کی ضرورت کی ضرورت کو پورا کریں گے یہ ملک کی معیشت کے استحکام میں طویل المدتی فوائد پہنچائیں گے۔اجلاس میں مشاہدہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ‘جو ہائیڈرو پاور منصوبے وفاقی حکومت کے تحت عمل میں لائے گئے وہ سست روی کا شکار ہیں جس میں مختلف عوامل کارفرما ہیں’۔ ان عوامل میں حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مختلف سطح اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں تعاون کمی کے بجائے اراضی کے حصول، ٹھیکے اور اندرونی داخلی منظوری کی فراہمی منصوبوں کی تاخیر کی وجوہات ہیں