- الإعلانات -

رانا ثناءاللہ کے بیان نے پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا

 

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈیا ایک عرصے سے پاکستان پردہشت گردوں کی حمایت کاالزام عائد کرتا آ رہا ہے تاہم آج تک وہ اپنے جھوٹے الزام کو ثابت نہیں کر سکا، مگر ہمارے اپنے وزیرقانون پنجاب راناثناءاللہ نے بھارت کے اس الزام کو سچ قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ دنوں رانا ثناءاللہ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو دیا اور اب بھارتی میڈیا ان کے اس انٹرویو میں کہے گئے الفاظ کو مزید مرچ مصالحہ لگا کر پیش کر رہا ہے اور اس پر باقاعدہ پراپیگنڈہ کر رہا ہے۔
بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”پاکستانی پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناءاللہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ہم جماعة الدعوة اور جیش محمد جیسی کالعدم تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری ریاست خود ان گروپوں کے ساتھ ملوث ہے۔ اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ گروپوں کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے اور وہ اب صوبے میں کوئی سرگرمی جاری نہیں رکھ سکتے مگر ان کے خلاف کارروائی کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں، کیونکہ ایسے کسی گروپ کے خلاف کیسے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جس کے ساتھ ریاست خود ملوث رہ چکی ہو۔“‘
بھارتی اخبار کا کہنا ہے کہ ”پاکستان ہمیشہ بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے شدت پسندوں کی حمایت کے الزام کی تردید کرتا آیا ہے مگر اب رانا ثناءاللہ کے اس ’اعتراف‘ کے بعد پاکستان پر عالمی دباﺅ میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا اور اس سے حقانی نیٹ ورک جیسے گروپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑے گا۔“انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”یورپی یونین نے پاکستان میں موجود اپنے نمائندوں کو رانا ثناءاللہ کے اس بیان کی تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اگر ان کے اس بیان کی تصدیق ہو گئی تو یورپی یونین پاکستانی ایئرلائنز پر یورپی ممالک میں داخلے پر پابندی عائد کر دے گی۔یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی بلاک بھی ہے۔ رانا ثناءاللہ کے بیان کی تصدیق کی صورت میں پاکستان کو تجارت کی مد میں بھی بھاری نقصان ہو سکتا ہے