- الإعلانات -

زیادتی کے حوالے سے قانون پر ہ میں اعتراضات ہیں ،طاہر ہ عبد اللہ

ہ میں جمہوریت کے تحت چلنا چاہئے ، جنرل ضیاء نے دو آرڈیننس منظور کئے ، زنا اور حدود آرڈیننس نافذ کئے اس کے ہم خلاف تھے

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)سماجی کارکن طاہر ہ عبد اللہ نے روزنیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جو مسودہ قانون بنایا ہے اس سے شدید ترین اعتراضات ہیں ، ہمارے پاس قوانین موجود ہیں ، جب ہم جمہوری ملک ہیں ، تو جمہوریت کے تحت چلنا چاہئے ، جنرل ضیاء نے دو آرڈیننس منظور کئے ، زنا اور حدود آرڈیننس نافذ کئے اس کے ہم خلاف تھے ، ریپ اور زنا علیحدہ چیزیں ہیں ، ریپ میں جو متاثر ہوتا ہے اس کی مرضی شامل نہیں ہوتی ، پھر 2006 میں زنا کے قانون کو علیحدہ کیا ، زنا زیادہ جرم ہے ، پھر ریپ کو علیحدہ کیا، 2016 میں ریپ کیلئے علیحدہ قانون لایا گیا ، مختلف ادوار میں اس حوالے سے کام کیا گیا، اب جو مجوزہ قانون پیش کیا اس میں پہلی بات یہ کہ آرڈیننس کیوں ہے ، کون سی ایمرجنسی ہو گی ، کیوں نہیں ڈرافٹ کی صورت میں اسے اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے ، عوامی نمائندوں کی رضا مندی سے قانون سازی کی جائے ، وزیر اعظم نے اپنی رضا مندی دیدی ،وزیر اعظم رضا مند ہو تو قانون بن جائے ، اس طرح قانون سازی نہیں ہویت ، یہ جمہوریت نہیں ، تیسرا اعتراض یہ ہے کہ یعنی شدید سزا ہو گی ، ہم سب جانتے ہیں کہ سخت سزا ہوگی اس سے ججز فیصلہ کرنے سے تنگ ہوتے ہیں ، یہ تو جو رپورٹ نظر آرتی ہیں وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں ، پیسے کے لین دین سے جرم چھپا لیا جاتا ہے ، میری جاگیر، میرا تھانہ ، میرا ایس ایچ او یہ یہ ریپ کبھی نہیں رک سکتا ، اس قانون میں سر عام پھانسی ہو اس کے خلاف ہوں ، کسی مرد نے ریپ کیا اس کو سزا دی جائے تو کیا یہ جرم ختم ہو جائیگا ، اس مجوزہ آرڈیننس میں بہت ساری شقیں ایسی ہیں جو انتظامی حوالے سے کی جا سکتی ہیں ، اس حوالے سے جو قانون بنے اس کو پبلک کیا جائے اس پر بحث مباحثہ ہو ، صدارتی نظام کی آخر رات کے اندھیرے میں ضرورت کیوں پڑی ہے ۔