- الإعلانات -

‘ٹرمپ نے افغانستان میں اچھے اقدامات کیے، امیدہے بائیڈن پیچھےنہیں ہٹیں گے’

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا کی پہلی لہر پر قابو پانے میں کامیابی کے بعد لوگوں نے احتیاط کا دامن چھوڑا جس کا نقصان ہوا۔ وزیر اعظم کا عالمی اقتصادی فورم کے تحت پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ سے خطاب میں کہنا تھا کہ دوبارہ ایس او پیز پر سخت عمل درآمد کرنا ہوگا، ہاٹ اسپاٹس کا پتہ چلا کر اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا، دنیا کے مقابلے میں ہم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو ترجیح دی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کیسز بڑھنے پر ہمیں تشویش ہے، پاکستان کاروبار اور فیکٹریوں میں لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہم ایسے اقدمات کر رہے ہیں جس سے معیشت متاثر نہ ہو، ہم نے لاک ڈاؤن کے برعکس غیر ضروری عوامی اجتماعات پر پابندی لگائی ہے، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری آرہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی کی ، 17 برس بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں آگیا، درآمدات اور برآمدات میں 40ارب ڈالر کا فرق تھا ، پاکستان خوش قسمت ہے کہ کاروباری برادری کوہم پر اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ استحکام حاصل کرنے کے بعد ہم اب مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں ،لاک ڈاؤن کے ساتھ یومیہ اجرت والوں کو بھی تحفظ دیا ،سی پیک کے باعث پاکستان کو ہنر مند افراد کی ضرورت ہے ، بدقسمتی سے ہمیں بھارت کے ساتھ مسائل کا سامنا ہے ، امیدہےبھارت میں مناسب قیادت آنےکےساتھ پاکستان سےتعلقات معمول پرآسکیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی مدد سے امریکااورطالبان مذاکرات کی میزپر آئے ، امید ہے افغانستان میں امن آئے گا، افغانستان میں امن سے اطراف کے علاقوں کو فائدہ ہوگا، صدر ٹرمپ نے افغانستان میں اچھے اقدامات کیے ، امیدہےجوبائیڈن افغانستان میں اچھےاقدامات سےپیچھےنہیں ہٹیں گے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ پاکستان چاہتاہے کسانوں کو زیادہ قیمت ملے، پاکستان آٹوموبل کی صنعت میں سرمایہ کاری کاخیرمقدم کرےگا، پاکستان چاہتاہےسرمایہ کاروں کویہاں آسانیاں ہوں اورمنافع ملے ، پاکستان چاہتاہے صنعتوں کو سستی توانائی فراہم کی جا سکے، چھوٹے کاروبار کی ترقی پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔