- الإعلانات -

ملا اختر منصور کی موت کے بعد طالبان سے مذاکرات نہیں کر سکتے چوہدری نثار

اسلام آباد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہاہے کہ طالبان سربراہ ملا اختر منصور کی موت کی خبر کی تاحال تصدیق نہیں کر سکتے،ولی محمد کی فیملی کی ایک شخصیت نے میت ان کے حوالے کرنے کی درخواست کی ہے اور حکومت پاکستان نے ان سے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیاہے،جس کے بعد واضح اعلان کیا جائے گا،مریکہ نے جو ڈرون اٹیک کرنے کا جواز دنیا کے سامنے رکھاہے وہ غیر قانونی ہے، بلا جواز ، نا قابل قبول ، پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے منافی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی قرادادوں اور بین الاقوامی قانون کی مکمل نفی کرتاہے، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں طالبان وفد کی قیادت ملا منصور کر رہے تھے ،افغان طالبان کو اس طرح ٹارگٹ کرنے کی منطق کیاہے،اگر ملا منصور رکاوٹ ہوتا تو مری میں مذاکرات کیوں ہوتے ،طالبان اپنی مرضی کے مالک ہیں وہ کسی کے زیر اثر نہیں ہیں ،یہ نہیں ہوسکتا کہ سربراہ کو قتل کر کے طالبان کو کہیں کہ مذاکرات کریں۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو دن پہلے کا واقعہ ہو اہے،بلوچستان کے علاقے میں ساڑھے تین بجے گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں دوافراد سوار تھے ،ایک ڈرائیور اور ایک مسافر ،میزائل حملے سے گاڑی بھی باکل راک کا ڈھیر بن گئی ہے ،دونوں کی باڈی مکمل طور پر جل چکی ہے جو کہ ناقابل شناخت چہرہ ہے ،اس واقعے سات گھنٹے بعد امریکہ کی طرف سے پاکستان کو سرکاری طور پر اطلاع دی گئی کہ ملا اختر منصور مارا گیاہے اور اسے پاکستان کے اندر نشانہ بنایا گیاہے ،ڈرون حملے کے فوری بعد ایف سی اور باقی سیکیورٹی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور لاشوں کا جائزہ لینا شروع کیا جو کہ مکمل جلی ہوئی تھیں اور کچھ دور ایک پاسپورٹ کے علاوہ کوئی نشان موجود نہیں تھا ،اس دوپہر اور شام تک سیکیورٹی ادارے اسی تفتیش میں رہے کہ یہ گاڑی کس کی ہے اور یہ افراد کون ہیں ظاہر ہے جب امریکہ کی جانب سے سرکاری طور پر اطلاع دی گئی تو ہماری سیکیورٹی ادارو ں نے تانے بانے ملانے کی کوشش کی ،ایک شخص کی شناخت ہو گئی ہے اور ان کی میت ان کے خاندان والوں کو شناخت کے بعد دے دی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے شخص کی جو لاش تھی اس کی شناخت نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ کہا گیا تھا کہ وہ ملا منصور کی لاش ہے اور وہ پاکستانی نہیں ہے ،پاکستانی اداروں کے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ ہم سرکاری طور پر اس خبر کی تصدیق کر سکیں ۔جو اطلاعات طالبان سے کچھ حلقوں اور افغانستان ، امریکہ سے آئیں ہیں ،اس کے مطابق یہ کہا جاتاہے کہ ملا منصور ہی اس میزائل میں نشانہ بنے ،مگر حکومت پاکستان سائنٹیفک اور قانونی تصدیق کے بغیر اس کا باقاعدہ اعلان نہیں کرسکتی ،اس کا ذریعہ آج پیدا ہواہے جب ان کی فیملی کی ایک شخصیت نے میت ان کے حوالے کرنے کی درخواست کی ہے اور حکومت پاکستان نے ان سے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیاہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے نمونے لے لیے گئے ہیں اور جیسے ہی تصدیق ہو جائے گی اس کے بارے واضح اعلان کر دیا جائے گا اور اس کی تصدیق یا تردید کی تاخیر کی وجہ یہ ہے ۔
چوہدری نثار کاکہناتھا کہ حکومت پاکستان اس ڈرون حملے کی سختی سے مذمت کرتاہے ،امریکہ نے جو ڈرون اٹیک کرنے کا جواز دنیا کے سامنے رکھاہے وہ غیر قانونی ہے، بلا جواز ، نا قابل قبول ، پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے منافی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی قرادادوں اور بین الاقوامی قانون کی مکمل نفی کرتاہے ۔ان کا کہناتھا کہ واضح طو ر پر حکومت پاکستان کا موقف اس سارے میں معاملے میں سامنے آئے گا جب وزیراعظم پاکستان آئیں گے ،نیشنل سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ پلان کی جارہی ہے جہاں اس سارے مسئلے پر مشاورت کے بعد ایک واضح نقطہ نظر قوم اور دنیاکے سامنے رکھا جائے گا ۔
ان کا کہناتھا کہ اب تک یہ تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ وہ پاسپورٹ جو ملاہے اسی پر وہ شخص سفر کرتاتھا یہ اسی کے زیر استعمال کر رہاتھا ۔انہوں نے کہا کہ یہ پاسپورٹ ولی محمد کا ہے ،شناختی کارڈ 2005میں نہیںبنا بلکہ یہ 2001میں بنا اور وہ مینول تھا ،2002میں وہی شناختی کارڈ کمپیوٹراڈ ہو گیا ،2005میں انہوں نے پہلی دفعہ پاسپورٹ کیلئے درخواست دی ،ان کو پاسپورٹ بھی مل گیا ،2012میں ان صاحب کا پاسپورٹ رینیو ہو ا۔
چوہدری نثار کا کہناتھا کہ مجھے انٹیلی جنس ذرائع سے پچھلے سال اس شناختی کارڈ اوراس کے ساتھ کچھ اور شناختی کارڈ کے بارے میں اطلاع دی گئی کہ شک ہے یہ لوگ افغانی ہیں تو فوری طور پر ان کے شناختی کارڈ کینسل کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ 24ہزار شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ پاسپورٹ بھی کینسل کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جو 24ہزار باقی تھے اس پر پیش رفت ہوئی ،لیکن ولی محمد کا نام نادرا نے نہیں بھیجا ،کیوں نہیں بھیجا اس کی تحقیقات جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ نادار میں کرپشن ہوتی ہے ،کچھ بہتری آئی ہے لیکن مجھے بتائیں کہ اس ملک کا مستقبل کیاہے جس کی نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی جیسے ادارے میں کرپشن ہے اور ہیرا پھیری ہے ۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہناتھا کہ 2011میں 26 ،2012میں 493جعلی شناختی کارڈ معطل ہوئے ،لیکن میں نے جون 2013مین 6ہزار شناختی کارڈ کینسل کیے ،اگلے سال 22361کیے ،2015میں ایک لاکھ گیارہ ہزار 540جعلی شناختی کارڈ معطل کیے ۔ان کا کہناتھا کہ 614ملازموں کو نادرا سے کرپشن کے الزامات میں فارغ کیاہے ۔انہوں نے کہا کہ 2010سے 2012تک صرف 361پاسپورٹ کینسل ہوئے لیکن ہم دو سال میں 29ہزار پاسپورٹ کینسل کر چکے ہیں۔جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی منسوخی کیلئے ہم بالکل نہیں چاہتے کہ شہریوں کو مسائل درپیش آئیں اور اس حوالے سے کام کر رہے ہیں ۔
چوہدری نثار کا کہناتھا کہ جن دو افراد نے 2001میں ولی محمد کے نادرا فارم کی تصدیق کی انہیں پکڑ لیا گیاہے ،جن میں سے ایک لیویز کے رسال دار عزیز احمداخان ہیں جبکہ دوسرا محبوب خان لوزئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن افراد کو پکڑ اگیاہے انہوں نے انکار کر دیا ہے کہ انہوں نے کسی ایسی شخصیت کے نادرا فارم کی تصدیق کی ہے ۔چوہدری نثار نے کہا کہ ہم نے 2005میں فارم کو تصدیق کرنے کا ریکارڈ نکالا ہے جس کے مطابق تحصیل دار قلعہ عبداللہ کے رہائشی شخص نے ان کی تصدیق کی ہے ۔چوہدری نثار کا کہناتھا کہ ایف آئی اے نے نادرا کے دفتر پر چھاپہ ماراایک ڈپٹی ڈائریکٹر اور دو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو جعلی شناختی کارڈ کے الزامات میں گرفتار کر لیاہے جبکہ اسی تحقیقات میں پتہ چلا کہ ان جعلی شناختی کارڈ بنانے کے الزام میں بلوچستان کے دواسسٹنٹ کمشنر بھی ملوثہ ہیں اور انہیں بھی گرفتار کر لیا گیاہے ۔چوہدری نثار کا کہناتھا کہ پاکستان میں صحیح کام کرنا مشکل اور غلط کام کرنا آسان ہے ،نادرا کو کرپشن سے پاک کرنے کی کوشش جاری ہے ۔
وفاقی وزیر نے امریکی ڈرون حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک امریکا کا قانون اپنا لے تو دنیا جنگل بن جائے گی ،محمد ولی بہت ممالک میں گیا لیکن صرف پاکستان میں ہی نشانہ کیوں بنایا گیا،امریکا کا یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے کہ جہاں اس کا دشمن ہو گا وہاں ماریں گے،،پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے سرحد پار بیٹھے ہیں لیکن پاکستان تو وہاں تو گولہ باری نہیں کرتا،پاکستان کیلئے خطرہ بننے والے بہت سے لوگ مغر ب اورافغانستان میں ہیں ۔
وزیر داخلہ ا کا کہناتھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں طالبان وفد کی قیادت ملا منصور کر رہے تھے ،افغان طالبان کو اس طرح ٹارگٹ کرنے کی منطق کیاہے ،افغان طالبان کے سربراہ کو پاکستان میں ہی کیوں نشانہ بنا یاگیا ،کہیں پٹاخہ بھی پھٹتاہے توپاکستان پر الزام لگا دیا جاتاہے ،وہ افغانستان میں تھا تو وہ امریکا کیلئے خطرہ کیوں نہیں تھا ،اگر ملا منصور رکاوٹ ہوتا تو مری میں مذاکرات کیوں ہوتے ۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مری کے مذاکرات میں بہت اچھا ماحول رہا،امریکا اور چین وہاں موجود تھے جبکہ حقانی گروپ کا نمائندہ بھی مذاکرات میں شریک تھا،اس کے بعد طے ہوا کہ مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا اور اس کی تاریخ31جولائی کی طے ہوئی ،لیکن عین اس سے تین یار چار دن پہلے ایک خبر لیک کی گئی اور مذاکرات کو سبوتاژ کیا گیا ،کہ ملا عمر وفات پا گئے ،جس کے باعث ایک لیڈر شپ کا تنازع کھڑا ہو گیا ،دوسرے مذاکرات کے دور میں کابل کو کنفلکٹ فری زون قرار دینا تھا اور طالبان اس پر متفق ہو گئے تھے ،یہ سب سے بڑی پیش رفت تھی اور مذاکرات سے نتائج نکل رہے تھے لیکن اسے سبوتاژ کر دیا گیا ،طالبان اپنی مرضی کے مالک ہیں وہ کسی کے زیر اثر نہیں ہیں ،یہ نہیں ہوسکتا کہ سربراہ کو قتل کر کے طالبان کو کہیں کہ مذاکرات کریں ۔چوہدری نثار کا کہناتھا کہ ڈرون باقاعدہ طور پر پاکستان کی حدود میں داخل نہیں ہوا بلکہ بارڈر کے قریب سے میزائل داغے ہیں،ڈرون نے کسی اور ملک میں رہتے ہوئے گاڑی کو ٹارگٹ کیا