- الإعلانات -

بنڈل آ ئی لینڈ پر سندھ حکومت کے تحفظات سمجھ سے بالاتر ہیں(ایس کے نیازی)

اسٹیل مل کا مسئلہ مناسب طریقے سے حل کیا جائے، اس کی نجکاری کر سکتے ہیں ،حکومت کے کاموں کے راستوں میں رکاوٹیں تو کھڑی ہیں ، حکومت ملازمین کو گو لڈن شیک ہینڈ دےدے

کسی حکومت نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، اب بھی حکومت کی ڈیلوری نہیں ہے، 50 لاکھ میں سے ایک لاکھ گھر ہی شروع ہو جاتے ، لیکن آ غاز ہی نہیں ہوا،حکومت اپنا وقت پورا کرے گی

میں روزانہ عوامی مسائل پر بولتا ہوں ، لکھتا بھی ہوں ،اس کی قیمت بھی چکاتا ہوں ، مہنگائی عروج پر ، ملاوٹ کا بول بالا ہے ، مسنگ پرسن کے حوالے سے کام ہو رہا ہے

سٹاک مارکیٹ پر اعتماد بڑھا یا جائے ، تاکہ لوگ ادھر آکر سرمایہ کاری کریں ، ڈار صاحب کی پراپرٹی تو ہے ، یہ شروع سے بزنس کرتے تھے، ان کی جائیداد ہونا کوئی جرم نہیں

راولپنڈی ، اسلام آباد میں کرونا سب زیادہ بڑھ رہا ہے ، کرونا کی ویکسین ہر آدمی نہیں لگوا سکے گا،کرونا پر سیاست نہیں کرنا چا ہیئے،

وزیر اعظم بے بس نہیں ہیں ، اداروں اور وفاقی حکومت میں یکسوئی ہے، روز نیوز کے پروگرام ’’ سچی بات‘‘ میں گفتگو کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے سندھ کے فنڈز بارے خاصے تحفظات کا اظہار کیا ہے ، سندھ ریکارڈ کیوں نہیں فراہم کرتا ، ہم حیران ہیں کہ سندھ میں پی پی کی حکومت ہے اب اداروں اور وفاقی حکومت میں یکسوئی ہے ، بنڈل آئی لینڈ پربھی ادارے اور وفاقی حکومت متفق ہیں ، مگر سندھ حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے سمجھ سے بالا تر ہے ، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ زرداری کی اولاد ابھی سیاست کے قابل نہیں تھی ، دیگر لوگوں سے بچنے اور پیپلز پارٹی کو بچانے کیلئے اپنے بچوں کو سیاست میں دھکیل دیا، اس طرح مریم نواز کو سیاسی میدان میں اتارا تاکہ ن لیگ کا کنٹرول ان کے پاس ہواور پیپلز پارٹی کا کنٹرول زرداری کے پاس ہو ، بلاول کو کرونا ہوا تو آصفہ بھٹو آجائے ، انہوں نے کہا کہ راولپنڈی ، اسلام آباد میں کرونا سب زیادہ بڑھ رہا ہے ، کرونا کی ویکسین ہر آدمی نہیں لگوا سکے گا، سٹیل مل کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں ایس کے نیازی نے کہا کہ جو بھی حکومتیں آتی ہیں گزشتہ حکومت کو قصور وار ٹھہراتی ہیں ، یہ کہاں تک درست اور غلط ہے ، یہ علیحدہ بحث ہے ، مسئلہ یہ ہے اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے ، اس پر سیاست نہیں کرنا چاہے ، پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو کہا کہ سٹیل ملز کے کسی ملازم کو فارغ نہیں کریں گے ، اب کیا جا رہا ہے ، ایسا فیصلہ کیا جائے کہ لوگوں کے پاس روزگار برقرار رہے ، اسٹیل مل کے حوالے سے کوئی مناسب کام نہیں وہ انتہائی قیمتی جگہ ہے ، اس کو کیسے ہینڈل کیا جا رہا ہے ، وفاق اور سندھ کو اس پر توجہ دینا چاہیئے ،ہر آدمی حکومت سکور بنانے لگ جاتی ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ کہ اسٹیل مل کا مسئلہ مناسب طریقے سے حل کیا جائے، اس کی نجکاری کر سکتے ہیں ، اس کے آڑے کچھ نہیں آتا ، بس اس کے مقدمات عدالتوں میں ہیں ، حکومت کے کاموں کے راستوں میں رکاوٹیں تو کھڑی ہیں ، حکومت ملازمین کو گو لڈن شیک ہینڈ دےدے ، سب حکومتوں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، حکومت کی ڈیلوری نہیں ہے، 50 میں سے ایک لاکھ گھر سے شروع ہو جائے ، لیکن شروعات ہی نہیں ہوئی ، لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں ، غریب کا بہت برا حال ہے ، میں روزانہ عوامی مسائل پر بولتا ہوں ، لکھتا بھی ہوں مہنگائی عروج پر ، ملاوٹ کا بول بالا ہے ، اس کے نیازی نے کہا کہ مسنگ پرسن کے حوالے سے کام ہو رہا ہے، اختر مینگل علیحدہ ہو گئے تاہم حکومت اپنا وقت پورا کرے گی، وزیر اعظم بے بس نہیں ہیں ، معیشت کے حوالے سے کہا کہ سرماریہ کار سرمایہ کاری کرتا ہے اس جانب مزید توجہ کی ضروت ہے ، سٹاک مارکیٹ پر اعتماد بڑھا یا جائے ، تاکہ لوگ ادھر آکر سرمایہ کاری کرے ، اتنا ٹیکس عائد کر دیا جاتا ہے اس کی کوئی انتہاء نہیں متعد د لوگوں کو ریفنڈ ہی نہیں ملتا، لوگوں کی اس جانب دلچسپی بڑھانے کیلئے اسٹاک ایکسچینج میں سہولیات دینا ہونگی، اسحاق ڈار کے بی بی سی انٹرویو کے حوالے سے کہا کہ ڈار صاحب کی پراپرٹی تو ہے ، یہ شروع سے بزنس کرتے تھے، ان کی جائیداد ہونا کوئی جرم نہیں ، یہ چیزیں چھپتی تو نہیں ، یہ لوگ باہر پراپرٹی خریدنے جاتے ہیں ، صحت کا چکر بھی ہوتا ہے ، انہوں نے کہا حکومت کیلئے ہماری نیک خواہشات ہیں ۔