- الإعلانات -

کرونا ویکسین ٹرائل: پاکستانی خاتون نے مثال قائم کردی

کرونا کو شکست دینے کیلئے ایک تو ویکسین تیار کی جارہی ہے دوسری طرف اس کے ٹرائل کا مرحلہ جاری ہے، جس کےلیے مرد رضاکاروں کا انتخاب کیا گیا مگر ایک پاکستانی خاتون ایسی بھی ہیں جنہوں نے ازخود ویکسین لگوانے کا فیصلہ کیا۔ آئیے آپ کو بھی رضاکارانہ طور پر ویکسین ٹرائل کے دوران کرونا ویکسین لگوانے والی پاکستانی خاتون سے ملواتے ہیں اور سنواتے ہیں کہ کیوں انہوں نے کرونا ویکسین کے آزمائشی مرحلے میں شرکت کی۔ سارہ اشتیاق نے شرکت کی جنہیں ویکسین ٹرائل کے تیسرے مرحلے کے دوران ویکسین لگوانے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

سارہ اشتیاق نے پروگرام کی میزبان ماریہ میمن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کینسائیو بائیو نامی چینی کمپنی کی بنائی ہوئی ویکسین کے پاکستان میں ٹرائل جاری ہیں اور تقریباً چالیس ہزار رضاکار دنیا بھر سے جو ان ٹرائل میں حصہ لے رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے 8 سے 10 رضاکاروں کا تعلق پاکستان سے ہے جو ایسی ویکسین کے ٹرائل میں شریک ہیں جو ابھی لانچ نہیں ہوئی اور نہیں اس کے مضر صحت اثرات کا علم ہے۔سارہ اشتیاق نے کہا کہ میری ایک جاننے والی خاتون نے ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹ سے متعلق بتایا کہ جیسے دیگر ویکسین کے لگوانے سے بخار ہوتا ہے ویسے ہی کرونا ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹ ہیں کہ بخار ہوگا، جسم میں درد ہوگا اس سے زیادہ کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہے۔

رضاکار خاتون نے ٹرائل میں رضاکارانہ شرکت کا طریقہ کچھ یوں بتایا : ویکسین لگوانے والے رضاکار کی عمر 18 سال سے زائد ہو، وہ صحت مند ہو کوئی بیماری نہ ہو اور خاتون ہے تو وہ حاملہ نہ ہو یا اگلے تین ماہ تک حاملہ ہونے کا ارادہ نہ ہو یا اگر دودھ ملانے والی ماں ہے تو بھی ٹرائل میں شرکت نہیں کرسکتی۔ٹرائل میں رضاکارانہ طور پر شرکت کرنے کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ رضاکار پہلے کرونا وائرس کا شکار نہ ہوا ہو۔