- الإعلانات -

لاہور جلسہ رکوانے کی درخواست پر وفاق، پنجاب اور ڈی سی لاہور سے جواب طلب

لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہر جگہ مجمع اکٹھا ہورہا ہے کیا یہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی نہیں۔لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس جواد حسن نے پی ڈی ایم کا لاہور کا جلسہ رکوانے کے لیے مقامی شہری عرفان علی کی ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور ڈی سی لاہور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر تیاری کرکے آنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت کس قانون کے تحت ایسے جلسوں کو روکنے کا حکم دے سکتی ہے، درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں، ایسے میں وہ کیسے عدالت آ سکتا ہے، آپ کی پٹیشن پہلے مسترد کی تھی اب آپ روپ بدل کر آگئے ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ جس طرح کا مجمع اکٹھا ہورہا ہے کیا وہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایس او پیز کی خلاف ورزی نہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایس او پی پر عمل درآمد کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل عمیر نیازی سے استفسار کیا کہ کورونا وبا میں شادیاں بھی ہو رہی ہیں تو حکومت نے کیا پالیسی بنائی ہے، آئین پاکستان کے آرٹیکل 15 کے تحت ہر شہری جلسے جلوس کرنےکا حق رکھتا ہے، اس طرح کے معاملات طے کروانے کے لیے آپ عدالت کیوں آسکتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اس طرح کے جلسے کی اجازت ڈی سی لاہور سے نہیں لی گئی، جب حکومت کے ادارے ناکام ہو جائیں تو عدالت آنا پڑتا ہے، حکام برملا کہہ رہے ہیں کہ ہم جلسہ کو نہیں روکیں گے، حالانکہ کورونا کے باعث ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہے، حکومتی پابندی کے باوجود پی ڈی ایم اجتماعات کر رہی ہے اور کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے، لاہور ہائیکورٹ پی ڈی ایم کو لاہور میں جلسہ کرنے سے روکے۔علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کورونا کی وجہ سے جلسے اور جلوس پر پابندی کیلئے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

محکمہ صحت پنجاب نے اپنے جواب میں کہا کہ اجتماعات اور جلسے سے کورونا پھیلنے کا شدید خطرہ ہے، کورونا کی وجہ سے بڑے اجتماعات پر پابندی لگائی گئیں کیونکہ ان میں ماسک لگانے کے باوجود کورونا پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔ عدالت نے درخواست پر متعلقہ حکام کو کل کیلئے طلب کرلیا۔