- الإعلانات -

‘اپنی حد سے باہر نہ جائیں’، جسٹس عمر عطا بندیال کا سرینا عیسیٰ پر اظہار برہمی

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران سریناعیسیٰ کی جانب سے چیف جسٹس گلزار احمد کو کیس میں فریق قرار دینے پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے برہمی کا اظہار کیا۔ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظرثانی کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے کی۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ سریناعیسیٰ نے 6 رکنی بینچ کے روبرو بینچ کی تشکیل پر دلائل دیتے ہوئےکہا کہ سپریم کورٹ کا رول 26 اےکہتا ہےکہ درخواستیں وہی بینچ سن سکتا ہےجس نے پہلے سماعت کی ہو، سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے 6 رکنی بینچ تشکیل دے کرغلطی کی، 6 رکنی بینچ کیسے7رکنی بینچ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سن سکتا ہے؟

دلائل کے دوران سریناعیسیٰ نے عدالت کے6 رکنی بینچ کےججزکے نام لےکر سب سے الگ الگ سوال کیاکہ کیا 6 رکنی بینچ 7 رکنی بینچ کےفیصلے کی نظرثانی درخواست سن سکتا ہے؟ چیف جسٹس پاکستان بھی اس کیس میں فریق اور ‘رسپانڈنٹ’ (جوابدہ) ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمرعطا بندیال نے سریناعیسیٰ پر اظہاربرہمی کرتے ہوئے کہاکہ آپ چیف جسٹس پاکستان پر الزام لگارہی ہیں، آپ حدود پارکررہی ہیں، اپنی حد سے باہر نہ جائیں، ایساکبھی نہیں ہوا کہ سماعت میں چیف جسٹس پاکستان پر الزام لگایا جائے، آپ ادارے اور اس کے سربراہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے محتاط رہیں،چیف جسٹس بینچ بنا سکتا ہے یہ اس کا آئینی اختیار ہے۔

سرینا عیسیٰ نے عدالت سے معافی مانگتے ہوئےکہاکہ میرا مقصد کسی معزز جج کی دل آزاری نہیں تھا،اگرکسی جج کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتی ہوں لیکن چیف جسٹس اس مقدمے میں فریق ہیں کیونکہ وہ شوکاز جاری کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن تھے۔ جسٹس قاضی عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کے دلائل کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ معزز جج اس وقت ملزم نہیں، ان پر کوئی الزام نہیں، بینچ کی تشکیل کا معاملہ آئین وقانون کے مطابق طے کریں گے۔ عدالت نے جسٹس فائز عیسیٰ نظر ثانی درخواستوں پر سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کا پس منظر خیال رہے کہ 19 جون 2020 کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے خارج کر دیا تھا اور اور 7 ججز نے قاضی فائز کی اہلیہ کے ٹیکس معاملات فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) کو بھیجنے کا حکم دیا تھا تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کررکھی ہے جب کہ مختلف بار کونسلز نے بھی عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کردی
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے لیے جسٹس فیصل عرب کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے جب کہ کیس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے ججز بھی نئےبینچ کا حصہ نہیں ہیں جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس یحیٰی آفریدی شامل ہیں۔

جسٹس قاضی عیسیٰ کے وکیل اور ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز نے نظر ثانی درخواستیں نئے بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کرنے پر بھی اعتراض کیا ہے اور فی الحال عدالت میں بینچ کی تشکیل کے حوالے سے دلائل جاری ہیں۔