- الإعلانات -

پارلیمانی کمیٹی کا دوسرااجلاس اپوزیشن نے 15 میں سے 2 سوال واپس لے لئے

اسلام آباد پانامہ لیکس کے ٹی او آرز مرتب کرنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہوا اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن نے 4 نکاتی ابتدائیہ پر اتفاق کر لیا ہے اپوزیشن نے 15 سوالات میں سے دو واپس لے لئے ہیں کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس منعقد ہوا ۔ جس میں حکومتی اراکین میں اسحاق ڈار ، خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق ، انوشہ رحمان ، زاہد حامد اور حاصل بزنجو شریک تھے جبکہ اپوزیشن اراکین میں اعتزاز احسن ، شاہ محمود قریشی ، طارق چیمہ ، بیرسٹر سیف ، الیاس بلور اور صاحبزادہ طارق اللہ شامل ہوئے ۔ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے پندرہ میں سے دو سوال واپس لے لئے ہیں چار نکاتی ابتدائیہ پر اتفاق ہوا ہے ۔ ٹی او آرز پر بحث خوش اسلوبی سے جاری ہے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ آج کمیٹی میں فیصلہ ہوا تھا کہ اجلاس کے بعد میڈیا سے کوئی بات نہیں کرے گا لیکن اسحاق ڈار نے میڈیا سے بات کر کے غلط فہمی پیدا کر دی ہے اپوزیشن نے پندرہ میں سے دو سوالات کو واپس لے لیا ہے اپوزیشن کھلے دل کے ساتھ حکومت کے ساتھ بیٹھی ہے ۔ ہم نے ابتدائیہ کے چار پیرا کو منظور کر لیا ہے انہوں نے کہاکہ حکومتی ٹی او آرز کو چیف جسٹس نے مسترد کر دیا ہے ۔ اگر حکومتی ٹی او آرز پر انکوائری کرائی جائے تو اس پر کئی سال لگیں گے اور اس میں پوری دنیا شامل ہو جائے گی اپوزیشن نے وزیر اعظم کو سعودی عرب سے ملنے والے تحائف کے سوال کو چھوڑ دیا ہے ۔ وزیر اعظم کا پانامہ پیپرز میں نہ ہونے پر انہیں نکال دیا ہے لیکن مریم نواز ، نواز شریف پر ڈیپینڈنٹ ہیں ۔ اس لئے جب مریم نواز کی انکوائری ہو گی تو نواز شریف کا نام خوبخود شامل ہو جائے گا اپوزیشن نے فراخدلی سے ابتدائیہ کے نکات قبول کئے ہیں جبکہ حکومتی اراکین چیف جسٹس کی طرف سے مسترد کئے گئے ٹی او آرز پر اصرار کر رہے ہیں ۔ اپوزیشن عوام کو مایوس کرنا چاہتی ہے حکومتی اراکین سے جب اتفاق ہوا ہے وہاں اختلاف بھی موجود ہے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ پانامہ پیپرز میں جن جن کا نام آیا ہے ان سب کا احتساب ہو سب سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے خاندان کا احتساب ہونا چاہئے ۔ لیکن اراکین کی خواہش ہے کہ پانامہ پیپرز کے علاوہ ایشو کو اٹھایا جائے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے کمیٹی میں ساتواں ممبر شامل کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ ان سے کہا گیا کہ ایک ممبر ڈراپ کریں تو انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کی وطن واپسی کے ممبر کومشاورت کے بعد ڈراپ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ٹی او آرز کے لئے شق وار بحث کا آغاز ہو چکا ہے ابتدائیہ پر اتفاق ہو گیا ہے اور پیشرفت جاری ہے اپوزیشن کے پندرہ سوالات بے معنی نہیں ہیں ہر سوال کے پیچھے قانون شکنی ہے قانون توڑا جائے گا تو سوالات بھی جنم لیں گے ہم قوم کو جوابدہ ہیں ۔ حکومت تو چاہتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے مسائل کھڑے کر کے اتنی گرد اچھالی جائے کہ کچھ نظر نہ آئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاؑ کستان جلسے کرتے ہیں لیکن لندن میں جا کر علاج کا بہانہ کر لیتے ہیں ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ٹی او آرز کا کام خاصہ پیچیدہ ہے حکومت اور اپوزیشن کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے کہ بات چیت کے بغیر آگے بڑھ سکے ۔اب تک کا کام اچھے ماحول میں ہوا ہے ابتدائیہ کی حد تک اتفاق ہوگیا ہے حکومت نے کوئی غلط فہمی پید انہیں کی ۔ حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک موجود نہیں ہے ۔ کمیٹی جتنا کام کرے گی اس کے بعد اس کو وزارت قانون و انصاف کے پاس بھیجا جائے گا اس لئے زاہد حامد کمیٹی میں آئے تو اپوزیشن نے کہا کہ اس طرح تو حکومت کے 7 اراکین ہو جائیں گے ۔ سپریم کورٹ نے حکومتی ٹی او آرز کو مسترد نہیں کیا اور نہ اس پر کوئی رولنگ دی ہے ۔ اس پر صرف چیف جسٹس نے رائے دی ہے ۔ اس رائے کی روشنی میں آگے بڑھیں گے ۔ اپوزیشن کا سارا فوکس وزیر اعظم اور پانامہ پیپرز پر ہے۔پانامہ پیپرز پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی اسمبلی میں اتفاق تھا کہ جو نوٹیفیکیشن ہوا ہے اس پر ہی کام کیا جائے گا ۔کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا