- الإعلانات -

کراچی : ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کی منظوری پیپلز پارٹی کی ہائی کمان کی جانب سے دی گئی۔

ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پارٹی کی ہائی کمان کی جانب سے منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی. نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں ہونے والے انکشافات کے مطابق پیپلز پارٹی کا بروز پیر اجلاس ہوا جس میں کچھ اہم ناموں پر پارٹی کی ہائی کمان سے کلئیرنس لی گئی اجلاس کے دوران بلاول بھٹو زداری کو  ان ناموں سےآگاہ کیا گیا کہ   جنہوں نے پیپلز پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا  جبکہ اہم شخصیات کے خلاف ثبوت بھی پیش کیے گئے۔ جس کے بعد اس فہرست کی منظوری دے دی گئی، ذرائع کے مطابق  فہرست میں سب سے پہلا نام ڈاکٹر عاصم حسین کا تھا۔  علاوہ ازیں اگر پارٹی پوزیشن میں دیکھا جائے تو  جو لوگ پیپلز پارٹی کے شریک چئیر مین آصف زرداری کے قریب مانے جاتے ہیں ان میں فریال تالپور، اویس ڈبی، ڈاکٹر عاصم حسین  اور رحمان ملک شامل ہیں۔ انہوں نے  مزیدانکشاف کیا کہ ڈاکٹر عاصم حسین کی ضیا الدین  فاؤنڈیشن سے ایک بڑی رقم ایم کیوایم کو بطور عطیہ دی جا رہی تھی جس کے باعث ان کا نام سامنے آیا، ڈاکٹر عاصم  کی اس طرح رقم منتقلی پر رینجرز نے موقف دیا کہ یہ دہشت گردوں کی معاونت کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام گرفتاریاں پارٹی کی ہائی کمان کی منظوری سے  عمل میں لائی گئی ہیں ۔ جبکہ  وفاقی اور صوبائی  حکومت   نے حساس اداروں  سے   کیا ہے کہ تمام بڑی گرفتاریاں دونوں حکومتوں کو اعتماد میں لے کر کی جائیں گے جس کے تحت سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف کا نام گردش میں ہے، پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مخدوم امین فہیم کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ شرجیل انعام میمن کی گرفتاری کے لیے بھی اجازت مانگی جا رہی ہے۔