- الإعلانات -

عمران فاروق قتل کیس اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم واپس برطانیہ روانہ

اسلام آباد:

اسلام آباد: عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم واپس برطانیہ روانہ ہو گئی۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے پاکستان میں گرفتار ملزمان کا انٹرویو کیے جبکہ پاکستانی تحقیقاتی اداروں کے سامنے کیے گئے اعترافی بیانات کا بھی جائزہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے لندن روانہ ہونے والی اسکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم 3 ارکان پر مشتمل تھی جبکہ ٹیم کے 3 ارکان اس سے قبل ہی برطانیہ جا چکے تھے۔

زرائع  کے مطابق ٹیم ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کے بیانات ریکارڈ کروا کر واپس لندن روانہ ہو گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم میں ہوگٹن،اسٹیورٹ اور گرین وے شامل تھے، اس ٹیم نے ملزمان کے اعترافی بیان کا بھی جائزہ لیا۔

واضح رہے کہ 6 رکنی برطانوی تحقیقاتی ٹیم عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ایک ہفتہ قبل پاکستان آئی تھی۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی اسٹیورٹ مائیکل کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن کے علاقے ایج ویئر کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر قتل کیا گیا۔

برطانوی پولیس نے دسمبر 2012 میں اس کیس کی تحقیق و تفتیش کے لیے ایم کیو ایم کے قائد کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے تھے، چھاپے کے دوران وہاں سے 5 لاکھ سے زائد پاؤنڈ کی رقم ملنے پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہوئی۔

برطانوی پولیس کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تصاویر کے مطابق 29 سالہ محسن علی سید فروری سے ستمبر 2010 تک برطانیہ میں مقیم رہا جبکہ 34 سالہ محمد کاشف خان کامران ستمبر 2010 کے اوائل میں برطانیہ پہنچا۔

دونوں افراد شمالی لندن کے علاقے اسٹینمور میں مقیم تھے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی شام ہی برطانیہ چھوڑ گئے تھے۔

جون 2015 میں 2 ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کی چمن سے گرفتاری ظاہر کی گئی جبکہ معظم علی کو کراچی میں نائن زیر کے قریب ایک گھر سے گرفتار کیا گیا۔

تینوں ملزمان کو گرفتاری کے بعد اسلام آباد منتقل کیا گیا جہاں وہ ایف آئی اے کی تحویل میں تھے، ان ملزمان سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔

یکم دسمبر 2015 کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے عمران فاروق قتل کیس کا مقدمہ پاکستان میں درج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں لندن پولیس اب تک 7697 دستاویزات کی چھان بین اور 4556 افراد سے پوچھ گچھ کر چکی ہے جبکہ 4323 اشیاء قبضے میں لی گئیں۔

لندن پولیس نے قاتلوں تک رسائی کے لیے عوام سے مدد کی اپیل کی جبکہ قاتل تک پہنچنے والی معلومات فراہم کرنے پر 20 ہزار پاؤنڈ انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔

مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھے جانے سے متحدہ قومی موومنٹ کے سفر تک کے ہر لمحہ کا حصہ رہنے والے ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر عمران فاروق پارٹی کے واحد جنرل سیکریٹری رہے ہیں

کے حوالے سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم واپس برطانیہ روانہ ہو گئی۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے پاکستان میں گرفتار ملزمان کا انٹرویو کیے جبکہ پاکستانی تحقیقاتی اداروں کے سامنے کیے گئے اعترافی بیانات کا بھی جائزہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے لندن روانہ ہونے والی اسکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم 3 ارکان پر مشتمل تھی جبکہ ٹیم کے 3 ارکان اس سے قبل ہی برطانیہ جا چکے تھے۔ ذرائع   کے مطابق ٹیم ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کے بیانات ریکارڈ کروا کر واپس لندن روانہ ہو گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم میں ہوگٹن،اسٹیورٹ اور گرین وے شامل تھے، اس ٹیم نے ملزمان کے اعترافی بیان کا بھی جائزہ لیا۔

واضح رہے کہ 6 رکنی برطانوی تحقیقاتی ٹیم عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ایک ہفتہ قبل پاکستان آئی تھی۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی اسٹیورٹ مائیکل کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن کے علاقے ایج ویئر کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر قتل کیا گیا۔

برطانوی پولیس نے دسمبر 2012 میں اس کیس کی تحقیق و تفتیش کے لیے ایم کیو ایم کے قائد کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے تھے، چھاپے کے دوران وہاں سے 5 لاکھ سے زائد پاؤنڈ کی رقم ملنے پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہوئی۔

برطانوی پولیس کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تصاویر کے مطابق 29 سالہ محسن علی سید فروری سے ستمبر 2010 تک برطانیہ میں مقیم رہا جبکہ 34 سالہ محمد کاشف خان کامران ستمبر 2010 کے اوائل میں برطانیہ پہنچا۔

دونوں افراد شمالی لندن کے علاقے اسٹینمور میں مقیم تھے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی شام ہی برطانیہ چھوڑ گئے تھے۔

جون 2015 میں 2 ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کی چمن سے گرفتاری ظاہر کی گئی جبکہ معظم علی کو کراچی میں نائن زیر کے قریب ایک گھر سے گرفتار کیا گیا۔

تینوں ملزمان کو گرفتاری کے بعد اسلام آباد منتقل کیا گیا جہاں وہ ایف آئی اے کی تحویل میں تھے، ان ملزمان سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔

یکم دسمبر 2015 کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے عمران فاروق قتل کیس کا مقدمہ پاکستان میں درج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں لندن پولیس اب تک 7697 دستاویزات کی چھان بین اور 4556 افراد سے پوچھ گچھ کر چکی ہے جبکہ 4323 اشیاء قبضے میں لی گئیں۔

لندن پولیس نے قاتلوں تک رسائی کے لیے عوام سے مدد کی اپیل کی جبکہ قاتل تک پہنچنے والی معلومات فراہم کرنے پر 20 ہزار پاؤنڈ انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔

مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھے جانے سے متحدہ قومی موومنٹ کے سفر تک کے ہر لمحہ کا حصہ رہنے والے ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر عمران فاروق پارٹی کے واحد جنرل سیکریٹری رہے ہیں