- الإعلانات -

وفاقی حکومت سی پیک منصوبے میں پختونوں سے زیادتی نہ کرے،آفتاب شیرپاؤ

پشاور قومی وطن پارٹی کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ مسلسل نظر انداز کر نے اور خیبر پختونخوا سے ناانصافیوں کی وجہ سے پختونوں میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے،زخموں پر نمک چھڑکنے کی بجائے ان پر مرہم رکھتے ہوئے راہداری منصوبے میں پختونوں کو زیادہ سے زیادہ ترجیح دی جائے اور سی پیک کو ایک صوبے کا منصوبہ نہ بنایا جائے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ پختونوں کی طرف سے امن اور ملک کے عظیم تر مفادات کیلئے ساٹھ ہزار جانوں کی قربانی دی گئی جبکہ لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہو کر نقل مکانی کر نا پڑی،وفاقی حکومت سی پیک منصوبے میں پختونوں سے زیادتی نہ کرے ،سوات،دیر اور چترال کی پسماندگی کے خاتمے کیلئے سی پیک منصوبے کے تحت ہائیڈل پاور پراجیکٹس بنائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کی اصلاحاتی کمیٹی کی رپورٹ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جا ئے، ملاکنڈ ڈویژن جو نہایت ہی پسماندہ ڈویژن ہے جبکہ یہاں کے لوگوں نے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں لہٰذا ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا خاتمہ کیا جا ئے۔آفتاب شیر پاؤ نے پاکستان اور افغانستان کے مابین ڈیڈ لاک کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا نہ صرف امن ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام تاریخی تجارتی و ثقافتی رشتوں میں منسلک ہیں۔ایک سوال کے جواب میں آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس کے مسئلہ سے پورے ملک میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے لہٰذا حکومت اور اپوزیشن ٹی او آرز کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر کمیشن کے فوری قیام کیلئے راہ ہموار کرے کیونکہ اس ایشو کی وجہ سے ملک کے اہم مسائل پس پشت چلے گئے ہیں۔