- الإعلانات -

ماحولیاتی آلودگی کے مسائل ختم کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کو ٹھیک کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بلین ٹری ہنی انیشی ایٹو پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے سامنے آج سب سے بڑے چیلنجز میں اپنے ملک کے ماحولیات کا خیال رکھنا ہے، انگریز نے جو جنگلات بنائے تھے وہ ہم نے ختم کردیئے اور دریاؤں کو آلودہ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ زیر زمین پانی آلودہ ہوتا جارہا ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ سندھ میں 70 فیصد زیر زمین پانی آلودہ ہے، ہوا کو آلودہ کردیا اور لاہور میں خاص طور پر سردیوں میں آلودگی خطرے سے بھی اوپر جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے بدترین متاثرین ہونے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہوگا جو آگے ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے جو بھی آیا اس نے اپنے 5 سال اور الیکشن کا سوچا اور کسی نے آگے کا نہیں سوچا کہ کس طرح کا پاکستان چھوڑ کر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے اور میری حکومت پر سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے جو مسائل آئے ہیں وہ ٹھیک کریں، جنگلات کو بڑھائیں اور فضائی آلودگی کو بھی ٹھیک کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کا کامیاب تجربہ ہوا اور اس کی آڈٹ باہر کی کمپنیوں اور ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی طرف سے تصدیق کرکے ہمارے ساتھ تعاون کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب جو نیا اقدام ہے اس پر امین اسلم اور ساتھ ہی گورنر کے پی شاہ فرمان کو بھی کریڈٹ دیتا ہوں کیونکہ اس سے مقامی لوگوں کو اس سے فائدہ ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپنے جنگلات کو شہد کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ زبردست ہے کیونکہ اس سے مقامی لوگوں کو فوری طور پرروزگار ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں 12 مختلف موسمیاتی زون ہیں جہاں مختلف قسم کے پودے اور درخت اُگتے ہیں، اس لیے شہد بھی مختلف اقسام کے بنا سکتے ہیں، اس منصوبے میں حکومت مدد کرے گی، جب تک کوالٹی کنٹرول نہیں ہوگی اس وقت تک برآمد نہیں کرسکتے۔

پاکستانی پھلوں کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سبزیاں اور پھل، دنیا کا بہترین پھل ہے اور یہ مانا جاتا ہے لیکن کوالٹی کنٹرول نہیں ہے جس کی وجہ سے فروخت نہیں ہوتی، مشرق وسطیٰ میں ہم پھل برآمد کرسکتے ہیں اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، مشرق وسطیٰ میں کئی دفعہ سیب کھائیں اور کیلا کھائیں تو اس میں فرق پتا نہیں چلتا لیکن ہمارے پھل میں ذائقہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پاکستان کی برآمدات بہت کم ہے، اس کے لیے پوری حکومت اور وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کو مدد کرنا پڑے گی اور جیسے کوالٹی کنٹرول آئے تو فوری طور ہمارے پاس صرف شہد ہی نہیں ہر پیداوار کی برآمد ہوسکے گی۔

عمران خان نے کہا کہ دوسرا مسئلہ ہماری برآمدات کا ہے، جب تک ہم اپنی برآمدات نہیں بڑھائیں گے پاکستان کبھی بھی امیر ملک نہیں بنے گا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پھنسے رہیں گے جو ختم نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں نوجوانوں کو روزگار چاہیے اور اس سے یہ تیسری چیز بھی پوری ہوگی کیونکہ ان علاقوں میں نوجوانوں کو نوکریاں ملیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس منصوبے سے ہر طرح ہمارے ملک کی مدد ہوگی اور ہمیں درخت اگانے میں دو اور چیزوں پر زور دینا چاہیے جس میں ایک زیتون ہے، ہم گھی باہر سے منگواتے ہیں جو 3 ارب ڈالر کی درآمد کرتے ہیں لیکن جیسے روپے نیچے جاتا ہے درآمدات مہنگی ہوجاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلین ٹری کے اندر زیتون کی پیداوار پر زور دیں گے تو ہم زیتون برآمد کریں گے، کینیڈا میں مقیم پاکستانی ماہر نے مجھے بتایا کہ دریائے سندھ کے دائیں طرف سارا سلیمان رینج زیتون کے لیے بہترین علاقہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیتون سے جو آمدنی ہوگی اس سے ان علاقوں میں غربت کے خاتمے کے لیے فائدہ ہوگا اور ہم زور لگائیں گے۔